روسی وفد مذاکرات کے لئے بیلاروس پہنچ گیا/ یوکرائن کے صدر کا بیلاروس میں مذاکرات سے انکار

روس نے یوکرائن کے ساتھ مذاکرات کے لئے اپنا وفد بیلاروس بھیج دیا ہے جبکہ یوکرائن کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن بیلاروس میں مذاکرات نہیں کریں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرائن کے ساتھ مذاکرات کے لئے اپنا وفد بیلاروس بھیج دیا ہے جبکہ یوکرائن کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن بیلاروس میں مذاکرات نہیں کریں گے۔ ادھر روسی فوج یوکرائن کے شہر خارکیف میں داخل ہوگئی ہے جبکہ چیچنیاکے سربراہ قدیروف  نے روسی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے یوکرائن میں اپنے فوجی بھیج دیئے ہیں۔روس نے یوکرائن کے بہت سے شہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔روسی فوج نے اوڈیسہ شہر پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

المیادین کے مطابق روسی فوج نے یوکرائن کے شہر اوڈیسہ کی سکیورٹی عمارت سے یوکرائن کا پرچم اتار دیا ہے۔ روسی فوج کی یوکرائن کے دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں پیشقدمی جاری ہے۔  ذرائع کے مطابق روسی فوج نے کیف میں تیل کے ایک مخزن کو بھی تباہ کردیا ہے۔ دارالحکومت کیف کے علاقہ سولو منسکی میں روس اور یوکرائن کے فوجیوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ روسی فوجی کیف میں داخل ہونے کے لئے روسی حکام کے نئے فرمان کے منتظر ہیں۔  اگر یوکرائن کے صدر نے بیلاروس میں مذاکرات میں شرکت نہ کی تو روسی حکام آئندہ چند گھنٹوں میں نیا فرمان صادر کرکے روسی فوج کو کیف میں داخل ہونے کی اجازت دے دیں گے۔ ادھر یورپی ممالک نے روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو یوکرائن پر فوجی یلغار کا تاوان ادا کرنا پڑےگا اور اس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ادھر روسی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکہ اور یورپی ممالک کی پابندیوں کو ناکام بنانے کے لئے پہلے سے کئی منصوبے بنا رکھے ہیں۔

News Code 1909993

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 1 =