مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بعض امریکی حکام نے دعوی کیا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں داخلے اور اخراج کے لیے ایک راستہ قائم کر لیا ہے، جس کے ذریعے روزانہ تقریباً 10 ملین بیرل تیل عالمی توانائی مارکیٹ تک پہنچایا جا رہا ہے۔
امریکی ویب سائٹ آکسیوس نے الجزیرہ کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حکام کے مطابق یہ راستہ اس لیے قائم کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔
رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ موجودہ راستے سے روزانہ تقریبا 10 ملین بیرل تیل منتقل ہو رہا ہے، جو جنگ شروع ہونے سے قبل اس راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا تقریبا نصف بنتا ہے۔
ایک اور امریکی اہلکار نے آکسیوس سے گفتگو میں دعوی کیا کہ امریکی افواج گزشتہ دو ماہ سے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی مبینہ طور پر صرف اس راستے میں خلل ڈالنے کی کوشش کر سکتی ہے۔
کچھ دیگر امریکی حکام نے بھی دعوی کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی ایران کی صلاحیت کم ہوئی ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے مزید دعوی کیا کہ امریکی فوج نے پیر کی رات 8 ایرانی ڈرونز اور 2 کروز میزائل مار گرائے۔
آکسیوس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ