روس کی بحری فوج نے بھی یوکرائن پر دھاوا بول دیا

روس کی وزارت دفاع کے مطابق روسی بحریہ کی جانب سے بلیک سی میں یوکرائن کی ائیر بیس پر میزائل حملہ کیا گیا ہے ۔ روسی وزارت دفاع کاکہنا ہے کہ ہم نے یوکرائن کے ائیر بیس اور ائیر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ کر دیا ہے ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے روسیا الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس کی وزارت دفاع کے مطابق روسی بحریہ کی جانب سے بلیک سی میں  یوکرائن کی ائیر بیس پر میزائل حملہ کیا گیا ہے ۔  روسی وزارت  دفاع کاکہنا ہے کہ ہم نے یوکرائن کے ائیر بیس اور ائیر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ کر دیا ہے ۔روس کا آج صبح سے یوکرائن  کے خۂاف فوجی آپریشن جاری ہے، جس کے نتیجے میں  یوکرائن کے ایئر ڈیفنس کو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ روس نے اپنے جنگی طیارے کے سرنگوں ہونے کی خبر کو مسترد کردیا ہے۔۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق اس نے یوکرائن کے ایئر بیسز کا انفرا اسٹرکچر ناکارہ بنا دیا ہے۔

روسی حملے کے بعد یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں دھماکے بھی سنے گئے ہیں جبکہ پورے یوکرائن میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ہے۔

یوکرائن کے صدر زیلنسکی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مارشل لاء کا نفاذ پورے ملک پر ہو گا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتین نے یوکرائن پر خصوصی فوجی آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے یوکرائن کی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صدر پوتین نے دھمکی دی ہے کہ بیرونی مداخلت ہوئی تو روس جواب دے گا۔

پوتین کے مطابق یہ فوجی آپریشن یوکرائن کی دھمکیوں کے جواب اور اسلحے سے پاک خطے کے لیے ہے۔

روس کی جانب سے یوکرائن کے دارالحکومت کیف کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حملہ کیا گیا ہے، جس کے بعد سول طیاروں کے لیے یوکرائن کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے۔

یوکرین سول ایوی ایشن نے تمام ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود کی بندش کا نوٹم بھی جاری کر دیا ہے۔

یوکرائن کی جانب سے مختلف شہروں پر روس کے حملے کی سرکاری سطح پر تصدیق کی گئی ہے۔

روسی حملے کے بعد یوکرین کا پہلا بیان سامنے آیا ہے جس میں یوکرینی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ دارالحکومت کیف، ماریوپول، اڈیسہ اور دیگر شہروں پر حملے ہوئے ہیں۔

یوکرائن کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ روس نے بیلیسٹک اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق روسی فوج یوکرین کے علاقے ماریوپول اور اڈیسہ میں پہنچ گئی ہے۔

روسی فوج کی جانب سے یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں ملٹری کمانڈ سینٹرز پر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔

روس اور یوکرائن کے درمیان کشیدگی اور تنازع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔

سلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس یوکرائن کی درخواست پر بلایا گیا ہے، 3 روز کے دوران سلامتی کونسل کا یہ دوسرا ہنگامی اجلاس ہو گا۔ ادھر امریکہ اور یورپی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

ذرائع  کے مطابق روسی سفیر برائے اقوامِ متحدہ نے سلامتی کونسل کو مشرقی یوکرین پر روسی حملے سے آگاہ کر دیا۔

روسی سفیر برائے اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت روس کا آپریشن درست ہے۔

News Code 1909960

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 3 =