گذشتہ سال کی نسبت مشکلات میں کمی/ ایرانی عوام کی بے مثال استقامت

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران میں پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال کی نسبت مشکلات میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ایرانی عوام نے دشمن کی گھناؤنی سازشوں کے مقابلے میں بے مثال استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران میں صدارتی محل میں پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال کی نسبت مشکلات میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ایرانی عوام نے گذشتہ 41 برس میں دشمن کی گھناؤنی سازشوں کے مقابلے میں بے مثال استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے 22 بہمن انقلاب اسلامی کی کامیابی کی سالگرہ کے موقع پر عظیم ریلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو گذشتہ 41 برسوں سے اسلامی نظام اور انقلاب اسلامی کی بھر پور حمایت کررہے ہیں۔

صدر روحانی نے حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے بھی قوم کو مبارکباد پیش کی اور 22 بہمن کی ریلیوں میں عوام کی بھر پور شرکت کا شکریہ ادا کیا۔

صدر حسن روحانی نے دشمن کی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی اقتصادی پابندیاں ناکام ہوجائیں گي اور دشمن کو ان پابندیوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ دشمن کی پابندیوں سے ایرانی عوام کے استقلال میں مزید استحکام پیدا ہوگا۔

صدر روحانی نے دشمن کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی مذاکرات کی میز پر کمزوری کی حالت میں نہیں بیٹھے اور نہ ہی بیٹھیں گے ۔

صدر روحانی نے خطے میں امن و صلح کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایران کے بغیر امن و صلح کا قیام  ممکن نہیں ، مہر نیوز کے مطابق صدر روحانی نے کہا کہ ہم نے صلح ہرمز کا منصوبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا اور علاقائی ممالک کے سربراہان کو بھی باقاعدہ طور پر ارسال کیا۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ علاقہ میں امن و ثبات کا راہ حل علاقائی ممالک کے ہاتھ میں ہے جبکہ غیر علاقائی طاقتیں خطے میں بد امنی اور دہشت گردی کے فروغ کا اصلی سبب ہیں۔ مہر نیوز کے مطابق صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کو شکست اور ناکامی سے دوچار قراردیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے استقامت اور پائداری کے ساتھ امریکی پابندیوں کو شکست سے دوچار کردیا ہے اور دشمن ایرانی قوم کو اقتصادی دباؤ ڈال سر تسلیم خم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔

صدر روحانی نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو سعودی عرب کے ساتھ کوئی مشکل نہیں ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان کے وزير اعظم نے ایران کا دورہ کیا پھر وہ سعودی عرب گئے سبھی ممالک جانتے ہیں کہ ایران کی سعودی عرب سے کوئی کشیدگی نہیں۔ سعودی عرب کی اپنی مشکلات ہیں اور وہ اپنی مشکلات کو اگر ایران یا کسی دوسرے ملک کی گردن پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کا اپنا فعل ہے جسے ایران مسترد کرتا ہے ۔ مہر نیوز کے مطابق صدر روحانی نے کہا کہ سعودی عرب کی صرف ایران کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اکثر اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ کشیدگی جاری ہے جن میں قطر ، یمن، عراق، شام ، لیبیا، ترکی ۔ ملائشیا اور بعض دیگر ممالک شامل ہیں۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کو متوقف کردے تو اس کے ساتھ مذاکرات کا باب کھل سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کو امریکی سرپرستی اور امریکی اتحاد سے خارج ہوجانا چاہیے۔

صدر روحانی نے ایران میں پارلیمنٹ کے انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام پارلیمانی انتخابات میں بھر پور شرکت کریں گے اور اپنے شائستہ نمائندوں کو انتخاب کرکے پارلیمنٹ میں روانہ کریں گے۔

News Code 1897903

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 10 =