19 اگست، 2026، 3:56 PM

40 روزہ جنگ نے خطے میں سیکورٹی کے تمام معاملات بدل دیے، عراقچی

40 روزہ جنگ نے خطے میں سیکورٹی کے تمام معاملات بدل دیے، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ خلیج فارس کی سلامتی بیرونی طاقتوں نہیں بلکہ اجتماعی تعاون سے ممکن ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حالیہ 40 روزہ جنگ نے خطے کی سکیورٹی مساوات کو تبدیل کر دیا ہے اور علاقائی ممالک میں یہ درک پیدا ہوا ہے کہ خلیج فارس کی سلامتی لازماً اجتماعی سلامتی کے اصول پر مبنی ہونی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق عراقچی نے صدر ایران کے دفتر کے شعبہ اطلاعات و مواصلات سے گفتگو کرتے ہوئے جنگ کے حالات، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات، خارجہ پالیسی اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خارجہ پالیسی کے بارے میں کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی ایک مسلسل عمل ہے، جو مختلف حکومتوں میں نئے اقدامات اور مذاکرات کے طریقہ کار کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے، تاہم اس کے بنیادی اصول تبدیل نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مسعود پزشکیان کی حکومت نے ہمسایہ ممالک کو زیادہ ترجیح دی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ پہلے علاقائی ماحول میں امن و استحکام قائم ہو، اس کے بعد ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔

عراقچی نے کہا کہ ایران نے اپنی سفارتی سرگرمیوں اور حتی کہ مجازی شعبے میں بھی ہمسایہ ممالک کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق ہمسایہ ممالک کو ترجیح دینے کے لیے ضروری ہے کہ تمام کشیدگیوں کو کم کیا جائے، تعلقات کو وسعت دی جائے اور باہمی تعاون کے نئے راستے پیدا کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوئے، کیونکہ تمام ہمسایہ ممالک نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی، ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور ایرانی عوام کی حمایت کی۔

عراقچی نے مزید کہا کہ 40 روزہ جنگ میں امریکہ کی براہ راست شمولیت کے باعث صورتحال مختلف ہوگئی اور جب جنگ خطے کے دیگر حصوں تک پھیلی تو خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک کے ساتھ تعلقات ایک کشیدہ مرحلے میں داخل ہوئے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس کے باوجود وسطی ایشیا، قفقاز، افغانستان، پاکستان، ترکی اور عراق سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے ایران کے ساتھ اہم تعاون کیا، جن میں ضروری اشیا اور ادویات کی فراہمی، نیز راستے میں پھنسے ایرانی شہریوں کی آمد و رفت میں مدد شامل ہے۔

عراقچی نے کہا کہ حالیہ جنگ کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ خطے کے ممالک کا سکیورٹی نظام کے بارے میں نقطۂ نظر تبدیل ہوا ہے۔ ماضی میں خطے کی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کیا جاتا تھا، لیکن حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ غیر ملکی افواج اور فوجی اڈے نہ صرف سلامتی فراہم نہیں کر سکے بلکہ بعض مواقع پر عدم تحفظ کا سبب بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں غیر ملکی فوجی اڈے موجود نہیں تھے، وہ بعض حوالوں سے جنگ کے منفی اثرات سے زیادہ محفوظ رہے، جبکہ وہ ممالک جہاں امریکی اڈے موجود تھے، ان اڈوں سے انہیں مطلوبہ تحفظ حاصل نہیں ہوسکا۔

عراقچی نے کہا کہ ان اڈوں سے اسرائیل کو فائدہ ہوا جبکہ وہ میزبان ممالک کے دفاع میں مؤثر کردار ادا نہیں کرسکے۔

News ID 1940758

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha