مصری ماہرین کا 3  ہزار سال پرانے تابوت دریافت کرنے کا دعوی

مصری ماہرین نے کم سے کم 100 سال بعد پہلی بار بہت بڑی تعداد میں انتہائی اچھی حالت میں 3 ہزار سال پرانے تابوت دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصری ماہرین نے کم سے کم 100 سال بعد پہلی بار بہت بڑی تعداد میں انتہائی اچھی حالت میں 3 ہزار سال پرانے تابوت دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مصری ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق دریائے نیل کے کنارے واقع شہر اقصر کے قریب الاساسیف نامی علاقے سے 3 ہزار سال پرانے مرد، خواتین و بچوں کے تابوت اصل حالت میں دریافت کیے گئے ہیں۔رائٹرز کے مطابق مصری آثار قدیمہ نے چند دن قبل 30 تابوتوں کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جن سے متعلق حکام نے 20 اکتوبر کو تفصیلات جاری کیں۔

مصری وزارت آثار قدیمہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق دریافت کیے گئے 30 تابوت قدیم مصری تہذیب کے مذہبی پادریوں کے خاندان کے افراد کے ہیں۔

آثار قدیمہ کے وزیر خالد العنانی کے مطابق دریافت کیے گئے تابوتوں کو دریائے نیل کے کنارے واقع شہر کے اس علاقے سے دریافت کیا گیا جہاں سے ماضی میں بھی قدیم تہذیب کے تابوت اور دیگر چیزیں دریافت ہوتی رہی ہیں۔

دریافت کیے گئے تابوت مٹی میں دفن تھے اور ماہرین نے محض 3 سے 4 فٹ کی کھدائی کے بعد انہیں دریافت کیا۔

وزارت آثار قدیمہ کی جانب سے دریافت کیے گئے تابوتوں کی ٹوئٹر پر جاری کی گئی تصاویر دیکھ کر اندازا ہوتا ہے کہ تابوت انتہائی اچھی حالت میں ہے۔

مصری حکام کے مطابق دریافت کیے جانے والے تابوتوں میں مرد و خواتین سمیت بچوں کے تابوت بھی شامل ہیں اور ان تابوتوں پر قدیم مصری تہذیب کی نقش نگاری کو دیکھا جا سکتا ہے۔

مصر میں گزشتہ 100 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں تابوت دریافت ہوئے ہیں، اس سے قبل 19 ویں صدی میں مصر سے تابوت دریافت ہوئے تھے۔

News Code 1894737

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 15 =