بھارتی حکومت کے کشمیر میں غیر آئینی اقدامات پر بیورو کریٹ نوجوان نے استعفی دے دیا

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کے غیر آئینی اقدامات اورمظالم پر نوجوان بیورو کریٹ کنن گوپی ناتھ نے احتجاجا کرتے ہوئے استعفی دے دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کے غیر آئینی اقدامات اورمظالم پر نوجوان بیورو کریٹ کنن گوپی ناتھ نے احتجاجا کرتے ہوئے استعفی دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق بیورو کریٹ کنن گوپی ناتھ نے بھارتی حکومت کے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیر میں جو کر رہا ہے اس کامقصد انسانی جانوں کاتحفظ نہیں۔

سابق بھارتی بیورو کریٹ نے کہا کہ کشمیریوں سے حق رائے آزادی چھینا جا رہا ہے، جمہوریت میں ہم کسی بھی شہری کے حقوق غصب نہیں کرسکتے۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ سے متعلق بتاتے ہوئے کہا تھا کہ جموں کشمیر میں بنیادی حقوق کی دھجیاں اڑتے دیکھ کر انہوں نے اپنے استعفے کے کاغذات جمع کرائے۔

کنن کا کہنا ہے کہ وہ سول سروس میں اس امید پر شامل ہوئے تھے کہ وہ ان لوگوں کی آواز بنیں گے جو خاموش ہیں لیکن یہاں وہ اپنی آواز بھی کھو بیٹھے، جب دنیا کی ایک بڑی جمہوریت پوری ریاست پر پابندیوں کا اعلان کرتی ہے اور لوگوں کے بنیادی حقوق کی  خلاف ورزی کرتی ہےتو کم از کم وہ یہ جواب دے سکتے ہیں کہ انہوں نے ملازمت ہی چھوڑ دی۔

کنن گوپی ناتھ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا میں نے ایک بار سوچاتھا کہ سول خدمات میں شامل ہونے کا مطلب شہریوں کے حقوق اور آزادی کو بڑھانے کا ایک موقع ہے۔کنن گوپی ناتھ دوسرے آئی اے ایس آفیسر ہیں جنہوں نے کشمیر میں ہونے والی خلاف ورزیوں کے باعث استعفیٰ دیا ان سے قبل آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل بھی استعفٰی دے چکے ہیں۔

News Code 1893286

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =