برطانیہ کی طرف سے سمندری حدود میں ڈکیتی اور راہزنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير دفاع نے ایران کی تیل بردار کشتی کو جبل الطارق میں پکڑنے پر برطانیہ کی مذمت اور سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے بحری ڈکیتی اور راہزنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير دفاع جنرل امیر حاتمی نے ایران کی تیل بردار کشتی کو جبل الطارق میں پکڑنے پر برطانیہ کی مذمت اور سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے بحری ڈکیتی اور راہزنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

جنرل حاتمی نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ 12 ممالک کے ساتھ ایران کی سمندری حدود ہیں لہذا ایرانی بحریہ کو صنعتی اور دفاعی  وسائل کے لحاظ سے بہت ہی قوی اور مضبوط  ہونا چاہیے۔

ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے لئےعلاقائی امن و سلامتی بہت ہی اہم ہے اور ایران نے اپنی سکیورٹی کے لئے کافی زحمتیں اور اخراجات برداشت کئے ہیں۔

ایرانی وزیر دفاع نے امریکی جاسوس طیارے کو سرنگوں کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سپاہ نے امریکی ڈرون طیارے کو سرنگوں کرکے سب کو یہ پیغام دیدیا ہے کہ ایران کے لئے اپنی سرحدوں کی حفاظت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

جنرل حاتمی نے کہا کہ سمندرمیں امن و سلامتی برقرار کرنے کے سلسلے میں ایران نے نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایران اپنی ذمہ داریوں پر عمل پیرا ہے۔

ایرانی وزیر دفاع نے برطانیہ کی طرف سے جبل الطارق میں ایرانی تیل ٹینکر کو پکڑنے کے اقدام کو تحریک آمیز اور اشتعال انگیزقرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور مشترکہ ایٹمی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ کی طرف سے  بحری ، دریائی اور سمندری حدود میں  راہزنی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائےگا۔

News Code 1891981

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 6 =