انڈونیشیا میں ماچس کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 30 خواتین ہلاک

انڈونیشیا میں ماچس بنانے والی غیر قانونی فیکٹری میں آگ لگنے سے بچوں سمیت 30 خواتین ہلاک ہوگئی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انڈونیشیا میں ماچس بنانے والی غیر قانونی فیکٹری میں آگ لگنے سے بچوں سمیت 30 خواتین ہلاک ہوگئی ہیں۔اطلاعات کے مطابق انڈونیشیا کے صوبے سماترا کے شمالی علاقے بنجائی کے رہائشی علاقے میں غیر قانونی طور پر ماچس کی فیکٹری تعمیر کی گئی تھی جس میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی، آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے فیکٹری سے 30 لاشیں نکال لیں جن میں بچے بھی شامل ہیں، لاشیں بری طرح جھلس جانے کے باعث ناقابل شناخت ہوچکی ہیں، عمارت کی آگ پر قابو پانے کے لیے 5 گھنٹے تک جد وجہد جاری رہی ، آس پاس کی عمارتوں کو خالی کروا کر رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ عمارت سے 4 افراد نکلنے میں کامیاب ہوگئے، غیر قانونی طور پر قائم فیکٹری میں ہنگامی صورت حال میں باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ فیکٹری کی تمام ملازمین خواتین تھیں جو اپنے بچوں کو بھی ساتھ لاتی تھیں۔

پولیس نے فیکٹری کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

News Code 1891553

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =