صدی معاملہ فلسطینی سرزمین کی نیلامی/ رجعت پسند عربوں کی حمایت ، اسلامی مزاحمت کی مخالفت

فلسطینی سرزمین کو صدی معاملے کے ذریعہ نیلام کرنے کے سلسلے میں رجعت پسند عرب ممالک ،امریکہ اور اسرائیل کی بھر پور حمایت کررہے ہیں جبکہ اسلامی مزاحمت صدی معاملے کے سراسرخلاف ہے ۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی تجزیہ نگار کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی سرزمین کو صدی معاملے کے ذریعہ نیلام کرنے کے سلسلے میں  رجعت پسند عرب ممالک  امریکہ اور اسرائیل کی بھر پور حمایت کررہے ہیں جبکہ اسلامی مزاحمت صدی معاملے کے سراسرخلاف ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدی معاملے کا اجلاس آئندہ مہینوں میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکہ اور اسرائیل کی موجودگی میں منعقد ہوگا۔ یہ اجلاس اقتصادی سرگرمیوں کے عنوان سے منعقد ہورہا ہے جس میں اسرائیل کو بھی شرکت کے لئے باقاعدہ دعوت دی گئی ہے۔

اس اجلاس میں مسئلہ فلسطین کو نابود کرنے اور اس کی جگہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر زوردیا جائے گا ، امن و صلح کے اچھے الفاظ کے ذریعہ عالمی رائے عامہ کو مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے صدی معاملے کے سلسلے میں اپنے خطاب میں و اضح کیا ہے کہ صدی معاملے کا مقصد مسئلہ فلسطینی کو نابود کرنا ہے اور اس سلسلے میں امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی عرب ممالک نے تمام پروگرامز بھی مرتب کرلئے ہیں ۔ صدی معاملے کا آغاز بحرین سے ہوگیا ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صدی معاملے کو ناکام بنانے کے سلسلے میں اپنامؤثر کردار ادا کریں اور فلسطینیوں کی حمایت اور بیت المقدس کی آزادی کے سلسلے میں جد و جہد جاری رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ خطے کے عرب رجعت پسند ممالک فلسطینی کو معمولی داموں پر اسرائیل کے حوالے کررہے ہیں اور امریکی اتحادی عرب ممالک نے فلسطین کو نیلام کرنے کا عزم کررکھا ہے جبکہ ہم صدی معاملے کے خلاف ہیں اور صدی معاملے کے باوجود فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے سلسلے میں ہماری جد و جہد کا سلسلہ جاریر ہےگا اسلامی مزاحمت کسی کو مسئلہ فلسطین کو نابود کرنے کی اجازت نہیں دےگی۔

News Code 1890828

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 0 =