مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز ایران نے نہیں بلکہ امریکہ نے دی تھی

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے سی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز ایران نے نہیں بلکہ امریکہ نے دی تھی اور اب ایران امریکہ کے جواب کا منتظر ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے سی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز ایران نے نہیں بلکہ امریکہ نے دی تھی اور اب ایران امریکہ کے جواب کا منتظر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کی تبادلے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے بھی یہ کام کرچکے ہیں اور یہ امکان فراہم ہے کہ وہ ایرانی جو اقتصادی پابندیوں یا کسی دوسری وجہ سے امریکہ میں قید ہیں انھیں امریکہ آزاد کرے اورایران میں جو امریکی قیدی ہیں انھیں ایران آزاد کرے، قیدیوں کا تبادلہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس سلسلے میں ستمبر میں امریکہ کو تجزیز پیش کرنے کے سلسلے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز ایران نے نہیں بلکہ امریکہ نے پیش کی تھی اور ایران نے اس کا جواب دیا تھا اور اب ایران امریکہ کے جواب کا منتظر ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ قابل اعتماد نہیں ، امریکہ نے ایٹمی معاہدے اور دیگر عالمی معاہدوں کو توڑ کر ثابت کردیا ہے کہ امریکہ کبھی بھی معاہدے کو توڑ سکتا ہے اور اپنی بات سے پھر سکتا ہے۔

News Code 1890068

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 12 =