حضرت زینب (س) نے تمام سفر و اسیری کے دوران کبھی نماز قضا نہ کی

حضرت امام زین العابدین (ع) فرماتے ہیں: میری پھوپھی نے تمام سفر و اسیری کے دوران کبھی نماز قضا نہ کی اور وقت رخصت آخر امام حسین (ع) نے بھی اپنی بہن زینب (س) سے فرمایا تھا کہ: اے بہن! مجھے اپنی نمازِ شب میں فراموش نہ کرنا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا علی ع و فاطمہ س کی بیٹی اور پیغمبر اکرم ص کی نواسی ہیں۔ آپ نہایت ہی بافضیلت خاتون تھیں۔ اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام علی زین العابدین ع آپ کو عالمہ غیر معلمہ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ آپ کے کمالات صرف علم تک ہی محدود نہیں بلکہ زندگی کے مختلف حصوں میں آپ کی شخصیت کے مختلف پہلو منظر عام پر آئے۔ مشہور روایت کے مطابق حضرت زینب ( س ) کی ولادت ۵ جمادی الاول سن ۶ ہجری کو مدینہ منورہ  میں ہوئی۔

جب رسول خدا (ص) حضرت زینب (س ) کی ولادت کے موقع پر علی (ع ) و فاطمہ (س)کے گھر تشریف لائے تو آپ نے نومولود بچی کو اپنی آغوش میں لیا۔ اس کو پیار کیا اور سینے سے لگایا۔ اس دوران علی ع و فاطمہ س نے دیکھا کہ رسول خدا ص اونچی آواز سے گریہ کر رہے ہیں۔ جناب فاطمہ س نے آپ ص سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ ص نے فرمایا: "بیٹی، میری اور تمہاری وفات کے بعد اس پر بہت زیادہ مصیبتیں آئیں گی"

حضرت زینب (س) کے مشہور القاب درج ذیل ہیں:

۱- عالمہ غیر معلمہ، ۲- نائبۃ الزھراء، ۳- عقیلہ بنی ہاشم، ۴- نائبۃ الحسین، ۵- صدیقہ صغری، ۶- محدثہ، ۷- زاہدہ، ۸- فاضلہ، ۹- شریکۃ الحسین، ۱۰- راضیہ بالقدر والقضاء

حضرت  زینب (س) کا بچپن فضیلتوں کے ایسے پاکیزہ ماحول میں گزرا جو اپنی تمام جہتوں سے کمالات میں گھرا ہوا تھا جس کی طفولیت پر نبوت و امامت کا سایہ ہر وقت موجود تھا اور اس پر ہر سمت نورانی اقدار محیط تھیں رسول اسلام (ص) نے انہیں اپنی روحانی عنایتوں سے نوازا اور اپنے اخلاق کریمہ سے زینب کی فکری تربیت کی بنیادیں مضبوط و مستحکم کیں ۔

نبوت کے بعد امامت کے وارث مولائے کائنات نے انھیں علم و حکمت کی غذا سے سیر کیا ، عصمت کبری فاطمہ زہرا نے انہیں ایسی فضیلتوں اور کمالات کے ساتھ پرورش فرمائی کہ جناب زینب تطہیر و تزکیہ نفس کی تصویر بن گیئں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ حسنین شریفین نے انھیں بچپن ہی سے اپنی شفقت آمیز توجہ کا شرف بخشا جو  زینب کی پاکیزہ تربیت کی وہ پختہ بنیادیں بنیں جن سے اس مخدومہ اعلی کا عہد طفولیت تکمیل انسانی کی ایک مثال بن گیا۔

امام سجاد کی زبان سے بی بی زینب کے علم لدنی کا مقام بیان ہونا:

اَنْتِ بِحَمدِ اللّهِ عالِمَةٌ غَیرَ مُعَلَّمَة وَ فَهِمَةٌ غَیرَ مُفَهَّمَة

اے پھوپھی اماں، آپ الحمد للہ ایسی خاتون ہیں کہ جسکو کسی نے پڑھایا نہیں ہے، اور آپ ایسی عاقل خاتون ہیں کہ کسی نے آپ کو عقل و شعور نہیں دیا۔

فضیلتوں اور کرامتوں سے معمور گھر میں رسول اسلام اور علی  و فاطمہ کی مانند عظیم ہستیوں کے دامن میں زندگی بسر کرنے والی حضرت زینب کا وجود تاریخ بشریت کا ایک ‏غیر معمولی کردار بن گیا ہے کیونکہ امام کے الفاظ میں اس عالمہ ‏غیر معلمہ اور فہیمہ غیر مفہمہ نے اپنے بے مثل ہوش و ذکاوت سے کام لیکر، عصمتی ماحول سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور الہی علوم و معارف کے آفتاب و ماہتاب سے علم و معرفت کی کرنیں سمیٹ کر خود اخلاق و کمالات بکھیرتا چراغ بن گئیں ۔

ثانی زہرا کو بچپن ہی سے اپنے بے مثال بھائی حضرت امام حسین سے خصوصی محبت و الفت تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ بچپن میں بھی اگر آپ کو تھوڑی دیر کے لیے امام حسین کے چہرے کی زیارت نصیب نہ ہوتی تو آپ پر گریہ طاری ہو جاتا تھا۔ یہ محبت و الفت بچپن سے کربلا تک اس درجہ کمال کو پہنچ چکی تھی جہاں یک جان دو قالب کی صورت پیدا ہو گئی اور حضرت امام حسین جیسی شخصیت نے واقعۂ کربلا کے دوران حضرت زینب سے  مشاورت فرمائی۔ یہی سبب ہے کہ واقعۂ کربلا میں آپ نے امام حسین کی پیروی میں نہ صرف بہ تمام و کمال پیش آنے والے تمام مصائب کو برداشت کیا، بلکہ اپنے دو بیٹوں حضرت عون و محمد کو بھی راہِ خدا میں فدا کیا۔ اور اس کے بعد کربلا سے کوفہ و شام تک بے پردگی کے عالم میں بھائی کے پیغام کو عام کرتی چلی گئیں، اسی لیے آپ کو شریکۃ الحسین بھی کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بی بی زینب کو ام المصائب بھی کہا جاتا ہے، وہ اس لیے کیوں کہ آپ نے مسلسل غم و آلام نہایت قریب سے دیکھے۔ اول اول پانچ برس کی عمر میں حضور ختمی مرتبت کی رحلت پر گھر میں صفِ ماتم دیکھی۔ پھر اپنی والدہ ماجدہ بی بی فاطمۃ الزہرا کی وفات پر غم و الم کا شکار ہوئیں۔ پھر اپنے والد محترم حضرت علی ابن ابی طالب کی شہادت کا غم سہا، اس کے بعد بڑے بھائی امام حسن کے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھا اور آخر  میں اپنے چہیتے برادر حضرت امام حسین کی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ حضرت امام حسین سے پہلے کے تمام واقعات و حادثات کا مشاہدہ کربلا کے لیے آپ کا تربیتی اثاثہ قرار پایا اور یومِ عاشور آپ نے اپنے بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں اور بیٹوں کو خون میں غلطاں دیکھا، مگر ﷲ کے شکر کے سوا آپ کی زبان مبارک سے کوئی اور لفظ نہ نکلا۔

حضرت زینب کی طبیعت میں عبادت و پرہیزگاری کا عنصر نہایت غالب دکھائی دیتا ہے۔ تمام غم و آلام پوری خندہ پیشانی سے سہتی رہیں، مگر عبادات خداوند میں کوئی کمی نہیں آئی۔

امام زین العابدین (ع) فرماتے ہیں: میری پھوپھی نے تمام سفر و اسیری کے دوران کبھی نماز قضا نہ کی اور وقت رخصت آخر امام حسین نے بھی اپنی بہن زینب سے فرمایا تھا کہ: اے بہن! مجھے اپنی نمازِ شب میں فراموش نہ کرنا۔

یہ سند ہے کہ حضرت زینب نہایت عبادت گزار اور پرہیزگار شخصیت تھیں۔ آپ کو ثانیٔ زہرا کہنے کی وجہ غالباً یہی ہے کہ آپ حسبی و نسبی اعتبار سے کئی منازل میں حضرت فاطمۃالزہرا سے مماثلت رکھتی ہیں۔ حضرت فاطمۃ الزہرا نے آغوشِ رسالت میں پرورش پائی تو حضرت زینب کو آغوشِ رسالت و ولایت میسر آئی۔ حضرت فاطمۃ الزہرا کی والدہ ماجدہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری ہیں تو حضرت زینب کی والدہ خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرا ہیں۔ حضرت خدیجہ کے دو فرزند راہِ خدا میں شہید ہوئے تو حضرت زینب نے بھی اپنے دو بیٹے راہِ خدا میں فدا کیے۔

واقعہ کربلا میں حضرت زینب کی ذاتِ اقدس محض ایک بہن کی نہیں ہے، صرف ایک ماں کی نہیں ہے، صرف ایک مجاہدہ اور خطیبہ کی نہیں ہے، بلکہ زینب نام ہے اس شخصیت کا جس نے کربلا میں لاتعداد کرداروں کو ایک سانچے میں ڈھالتے ہوئے دین حق کی سربلندی میں عورت کے عظیم کردار کی وضاحت کی ہے۔ کربلا میں آپ کی شخصیت سے قریب قریب ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہدایت آفریں کردار کی نشان دہی ہوتی ہے۔

حضرت زینب نے واقعہ کربلا میں اپنی بے مثال شرکت کے ذریعے تاریخ بشریت میں حق کی سر بلندی کے لڑے جانے والی سب سے عظیم جنگ اور جہاد و سرفروشی کے سب سے بڑے معرکہ کربلا کے انقلاب کو رہتی دنیا کے لئے جاوداں بنا دیا۔ جناب زینب کی قربانی کا بڑا حصہ میدان کربلا میں نواسۂ رسول امام حسین کی شہادت کے بعد اہلبیت رسول کی اسیری اور کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں تشہیر سے تعلق رکھتا ہے۔

جناب زینب نے اپنے وقت کے ظالم و سفاک ترین افراد کے سامنے پوری دلیری کے ساتھ اسیری کی پروا کیے بغیر مظلوموں کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور اسلام و قرآن کی حقانیت کا پرچم بلند کیا۔ جن لوگوں نے نواسہ رسول کو ایک ویران و غیر آباد صحرا میں قتل کر کے، حقائق کو پلٹنے اور اپنے حق میں الٹا کر کے پیش کرنے کی جرات کی تھی سر دربار ان بہیمانہ جرائم کو برملا کر کے کوفہ و شام کے بے حس عوام کی آنکھوں پر پڑے ہوئے غفلت و بے شرمی کے پردے چاک کیے ہیں ۔

جناب زینب کے خطبات ، دینی معارف سے مالا مال، اجتماعی پہلوؤں کی حامل حقیقتوں کے عکاس مطالب پر مشتمل تھے۔ جناب زینب جو خود مکتب وحی کی ایک ممتاز معلمہ ہیں ہمیشہ اپنے خطبے کا آغاز پرودگار عالم کے ذکر سے کرتی ہیں آپ خدا کی یاد میں اس قدر غرق تھیں کہ رضائے الہی کے مقابل تمام مصیبت و آلام کومعمولی تصور کرتی تھیں لہذا پوری جرات و شہامت اور خندہ پیشانی کے ساتھ اسے برداشت کیا اور راہ حق میں پیش آنے والی مصیبتوں کو بھی نعمت الہی تصور کیا۔ جب کوفہ کے گورنر ابن زیاد نے آپ سے پوچھا کہ اپنے بھائی کے سلسلے میں خدا کے امر کو کیسا پایا تو آپ نے بڑے ہی اطمینان و یقین کے ساتھ جواب دیا : ہم نے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا خدا کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ انھیں مقتول دیکھے اور اب وہ لوگ خدا کی ابدی بارگاہ میں آرام کر رہے ہیں ، عنقریب ہی خداوند عالم تمہیں اور انہیں قیامت کے دن محشور کرے گا پس تم لوگ اس دن کے بارے میں فکر کرو کہ اس دن حقیقت میں کون کامیاب ہو گا۔

یہ عظیم روحانی اقتدار ،جو دشمن کی ذلت و حقارت کا سبب بنا ہے خدا کی جانب سے مدد و نصرت پر اعتماد و اطمینان کا سر چشمہ ہے۔ گویا جناب زینب نے اپنے کو خدا کی لازوال طاقتوں سے متصل کر لیا تھا۔

حضرت زینب معاشرے کی ہدایت و رہنمائی میں امام کے کردار اور مقام و منزلت سے بخوبی واقف تھیں اسی لئے واجب سمجھتی تھیں کہ اپنے بھائی امام حسین اور بھتیجے امام زین العابدین (ع) کے عظیم مقام کو اسلامی معاشرے میں امام و راہ بر کے اعتبار سے پہچانیں لہذا آپ نے کوفیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: تم لوگ فرزند پیغمبر، جوانان بہشت کے سردار امام حسین اور ان کے بچوں کے قتل سے اپنے دامن پر لگے ننگ و عار کے بدنما داغ کو کس طرح مٹاو گے ؟ اس عظیم ہستی کے قتل کا داغ ،جو تمہارے لئے بہترین پناہ گاہ،امن و اتحاد کا علمبردار، تمہارے دین کا ذمہ دار اور شریعت کا پاسباں تھا "

حضرت زینب نے قرآنی مفاہیم پر کامل تسلط کی بنا پر اپنی تقریروں میں الہی آیات سے استفادہ کیا منجملہ ان کے آپ نے سورہ احزاب کی 33 آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے خاندان اور اپنی مادر گرامی فاطمہ زہرا (س) اور اپنے والد ماجد حضرت علی (ع) اور اپنے دونوں بھائیوں کی عصمت و طہارت کا اعلان کرتے ہوئے شجاعت و شہامت کے ساتھ فرمایا: اس خدا کا شکر جس نے ہمیں پیغمبر کے ذریعے شرف و کمال عطا کیا اور ہرطرح کے نجس سے پاک و پاکیزہ رکھا۔ اسی طرح آپ نے سورہ آل عمران کی 178 آیت کی تلاوت کر کے یزید لعین سے کہا :

تیری یہ عیش و عشرت کی زندگی جلد ہی ختم ہو جائے گی اور تیری یہ بادہ نوشی و مدہوشی عارضی اور چند روزہ ہے۔

خدا وند عالم تجھ سے سخت مواخذہ کرے گا یہ دنیا اور اس کی زندگی گناہگاروں کے لئے مہلت ہے کہ وہ اپنے عذاب میں اور زیادہ اضافے کے لیے مواقع فراہم کریں۔

کربلا کی شیر دل خاتون نے بارہا اپنے خطبوں میں یزید و ابن زیاد کو ذلیل و خوار کیا اور ان کی کھل کر مذمت کی اور قران و اسلام سے ان کی دیرینہ دشمنیوں کو یاد دلایا۔

آپ نے خدا و پیغمبر کے خلاف ، یزید کی سرکشی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا " تو نے اس کام کے ذریعے خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے اور پیغمبر اسلام ، قران اور احکام اسلامی کا انکار کیا ہے۔

اگر مصیبتوں، پریشانیوں، سختیوں اور موجودہ حالات نے ہمیں ایسی منزل پر لا کر کھڑا نہ کیا ہوتا کہ میں تجھ سے کلام کرنے پر مجبور ہوتی تو تجھ جیسے بدترین فاسق و فاجر سے کبھی بھی کلام نہ کرتی، میں تیرے ظاہری رعب و دبدبے کو تیری حقیقی حالت سے بہت زیادہ پست جانتی ہوں اور تجھ پر بہت زیادہ لعنت بھیجتی ہوں۔

حق کی باطل پر کامیابی ایک ایسی سنت الہیہ ہے جو جناب زینب کے خطبات اور تقریروں میں پوری طرح حکمراں تھے۔ جناب زینب کے کلام سے یہ بات صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ باطل اگرچہ ممکن ہے ظاہری کامیابی اور اقتدار پر قبضہ جما لے اور ایک دنیا پرست ظالم و جابر حکمراں اپنے جھوٹے جاہ و حشم اور اقتدار کی دھونس جما کر چند دنوں اپنا رعب و دبدبہ قائم کر لے لیکن بالآخر دنیا اور آخرت میں حق کو ہی کامیابی ملے گی۔

اسی بنیاد پر جو افراد کربلا میں امام حسین کے ساتھ آخری دم تک موجود رہے ہیں اور درجہ شہادت پر فائز ہوئے ہیں وہ زندہ جاوید ہیں۔

حضرت زینب نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے بھرے دربار میں فرمایا تھا:

اے یزید، دنیا کی زندگی بہت ہی مختصر ہے اور تیری دولت اور عیش و عشرت کی زندگی اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح ہماری دنیوی مصیبتیں اور مشکلیں ختم ہو جاتی ہیں مگر کامیابی و کامرانی ہمارے ساتھ ہے کیونکہ حق ہمارے ساتھ ہے۔

امام حسین کی شہادت کے بعد دراصل حضرت زینب نے حسینی پیغام کو دنیا والوں تک پہنچانا ایک دینی و الہی فریضہ تصور کیا اور اپنی خداداد فصاحت و بلاغت اور بے نظیر شجاعت و شہامت کے ذریعے ظلم و ستم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی۔ حضرت زینب (س) نے اپنی پاک و پاکیزہ زندگی کے دوران اہل بیت پیغمبر کے حقوق کا دفاع کیا اور کبھی اس بات کی اجازت نہ دی کہ دشمن، واقعہ کربلا سے ذاتی فائدہ اٹھا سکے ، جناب زینب کے خطبوں کی فصاحت و بلاغت اور انداز بیاں نے لوگوں کو آپ کے بابا علی مرتضی کی یادیں تازہ کر دیں تھیں۔

اس عظیم خاتون نے الہی حقائق ایسے فصیح و بلیغ الفاظ میں بیان کیے جو ان کے عالمہ غیر معلمہ ہونے اور قرآن و سنت پر کامل دسترس پیدا کر لینے کو ظاہر کرتے تھے۔

حضرت زینب (س) اپنے بھائی امام حسین (ع) کی شہادت کے تقریبا " ڈیڑھ سال بعد 15 رجب المرجب 62 ہجری کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئیں ۔ آپ کا روضہ اقدس شام کے دار الحکومت دمشق میں ہے جسے اس دور کے یزیدیوں نے شہید کرنے کی بھر پور کوشش کی ، لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام کے سرفروشوں آگے بڑھ کر اس دور کے یزیدیوں کو خضرت زینب کے روضہ کیط رف بڑھنے سےر وک دیا ورنہ اس دور کے یزیدی جنت البقیع کیط رح دمشق میں حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے روضہ مبارک کو بھی شہید کردیتے۔ حق و باطل کامعرکہ آج بھی جاری ہے۔

محسن نقوی نے کیا خوب کہا ہے:

آیاتِ حق کی چھاؤں میں عصمت کا پھول تھیں

زینب کہیں علی تھیں کہیں پر بتول تھیں

اسلام کا سرمایہ ء تسکین ہے زینب

ایمان کا سلجھا ہوا آئین ہے زینب

حیدر کے خدوخال کی تزئین ہے زینب

شبیر ہے قرآن تو یاسین ہے زینب

یہ گلشنِ عصمت کی وہ معصوم کلی ہے

تطہیر میں زہرا ہے تو تیور میں علی ہے۔

News Code 1889048

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 12 =