انڈونیشیا نے سینیٹر کی نفرت آمیز بیان پرآسٹریلوی سفیر کو طلب کرلیا

نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کے بعد آسٹریلوی سینیٹر فریزر ایننگ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز گفتگو کرنے پر انڈونیشیا کے دفتر خارجہ نے جکارتہ میں موجود آسٹریلوی سفیر کو طلب کرشدید احتجاج کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کے بعد آسٹریلوی سینیٹر فریزر ایننگ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز گفتگو کرنے پر انڈونیشیا کے دفتر خارجہ نے جکارتہ میں موجود آسٹریلوی سفیر کو طلب کرشدید احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ نے کرائسٹ چرچ کے واقعے کے بعد آسٹریلوی سینیٹر کی طرف سے دہشت گرد حملے کا ذمہ دار نیوزی لینڈ کے مسلم مہاجرین کو ٹھہرانے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز گفتگو کرنے پر آسٹریلیا کے سفیر کو طلب کر تے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ آسٹریلوی سینیٹر کے تعصبانہ بیان سے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کے دل کو ٹھیس پہنچی ہے، جبکہ دہشتگردی کے اس واقعے کو مسلمانوں سے جوڑنا قابل مذمت ہے۔ واضح رہے کہ اسلاموفوبیا کا مظاہرہ کرنیوالے سینیٹر فریزر ایننگ کو پارلیمنٹ سے نکالنے کے لیے نیوزی لینڈ میں دستخطی مہم جاری ہے جس میں اب تک 13 لاکھ افراد کے دستخط کیے گئے ہیں۔

News Code 1888959

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 0 =