مہر خبررساں ایجنسی نے ایکسپریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے جائزے کے لئے بنائے گئے خصوصی میڈیکل بورڈ نے 2 گھنٹے تک جیل میں تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور ان سے دل کی بیماری، علامات اور جسم کے مختلف حصوں میں ہونے والے درد سے متعلق استفسار کیا۔ میڈیکل بورڈ سے ہونے والی گفتگو کے دوران نواز شریف نے پٹھوں میں کھنچاؤ اور دل پر بھاری پن کی شکایت کی۔
ڈاکٹرز نے نوازشریف کا بلڈ پریشر چیک کرنے کے علاوہ ان کی ای سی جی اور ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے بھی لئے۔ میڈیکل بورڈ نوازشریف کی صحت کے متعلق سفارشات محکمہ داخلہ کو بھجوائے گا اور محکمہ داخلہ پنجاب میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں نوازشریف کے آئندہ کے علاج کے متعلق بھی فیصلہ کرے گا۔
واضح رہے کہ مریم نواز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے والد نواز شریف کی بیماری بڑھ رہی ہے اور ان کی زندگی کو خطرہ بھی لاحق ہے۔ علاوہ ازیں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا بیان بھی اس حوالے سے سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ کئی دن گزرنے کے باوجود نواز شریف کی طبی تشخیص نا مکمل ہے، نہ تو نواز شریف کو اسپتال میں داخل کرایا جاتا ہے، اور نہ ہی ان کی مرضی کے مطابق علاج کرایا جاتا ہے۔
یاد رہے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت سے ملنے والی 7 سال قید کی سزا کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے ہیں۔ سزا کی معطلی کے لیے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، جس کی آئندہ سماعت 18 فروری کو ہوگی۔
آپ کا تبصرہ