مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہےکہ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنی مرکزی حکومت کو کرتار پور راہداری کے راستے پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم کرنے کی تجویزدے دی۔ بھارتی پنجاب کے وزیراعلٰی آفس کے ترجمان کے مطابق کیپٹن امریندرسنگھ نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو اس حوالے سے خط بھی لکھ دیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہےکہ سکھوں کے لیےگوردوارہ دربارصاحب کے کھلے درشن دیدار کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم ہونی چاہیے، سکھ یاتریوں کے پاکستان میں واقع گوردوارہ دربار صاحب آنے، جانے کے لیے طریقہ کار آسان ہونا چاہیے، یاتریوں کے لیے کسی بھی قابلِ میعاد سرکاری حکومتی دستاویز جیسے ادھار کارڈ کو پاسپورٹ کے متبادل کے طور پر قبول کیا جانا چاہیے تاکہ عام سکھ یاتری جن کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے وہ بھی کرتار پور صاحب کے درشن اور یہاں مذہبی رسومات ادا کرسکیں۔
دوسری جانب کرتار پور کوریڈور کے حوالے سے بھارتی حکام کا پہلا باضابطہ اجلاس بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہوا۔ بھارتی وزارت داخلہ کے دفترمیں ہونے والے اجلاس میں بھارتی سیکریٹری داخلہ، چیف سیکریٹری پنجاب، ڈی جی بی ایس ایف، ڈی جی انٹیلی جنس اور پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں سکھ یاتریوں کی پاکستان آمدورفت سمیت مختلف امور پر بات کی گئی اور سکھ یاتریوں کی کرتار پور آمدورفت کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ