عادل الجبیر نے خاشقجی کے قتل سے متعلق سی آئی اے کی رپورٹ کو رد کردیا

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سعودی عرب کے ڈکٹیٹر بادشاہ ملک سلمان اور خونخوار ولیعہد محمد بن سلمان کے تقدس کو ملحوظ رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ولیعہد محمد بن سلمان نہیں اور اس سے متعلق امریکی سی آئی اے کی رپورٹ بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سعودی عرب کے ڈکٹیٹر بادشاہ ملک سلمان اور خونخوار ولیعہد محمد بن سلمان  کے تقدس کو ملحوظ رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ولیعہد محمد بن سلمان نہیں اور اس سے متعلق امریکی سی آئی اے کی رپورٹ بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سعودی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی تفتیشی ادارے سی آئی اے رپورٹ کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ سی آئی اے نے حقائق سے منافی اپنی رپورٹ میں صحافی کے قتل کا حکم ولیعہد محمد بن سلمان سے منسوب کیا ہے۔ سعودی عرب ایسے ہر الزام کی تردید کرتا ہے اور سی آئی اے کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ترک صدررجب طیب اردوغان کے خاشقجی قتل کا حکم سعودی اعلیٰ سطح سے دیئے جانے کے بیان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ترک صدر کی اس بیان میں "اعلیٰ سطح " سے مراد ولی عہد محمد بن سلمان نہیں۔سعودی وزیر خارجہ نے ہزاروں یمنی معصوم بچوں اور بےگناہ افراد کے قتل میں ملوث سعودی بادشاہ اور ملیعہد محمد بن سلمان کو مقدس قراردیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی ان محترم ہستیوں کے تقدس کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ امریکی تفتیشی ادارے سی آئی اے نے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی سے متعلق رپورٹ میں قتل کا حکم ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دیئے جانے ٹھوس ثبوت پیش کئے تھے ترک کے پاس بھی ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد خاشقجی کے قتل میں ملوث ہیں۔

News Code 1885789

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =