مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی تبادلہ کیس سے متعلق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان پرنوٹس لیتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ بیان قراردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثارنے گزشتہ روزوفاقی وزیربرائے اطلاعات ونشریات فواد چوہدری کے آئی جی کے تبادلے سے متعلق بیان پر نوٹس لیتے ہوئے انہیں فوری طورپرطلب کرلیا ہے۔ چیس جسٹس نے کہا کہ فواد چوہدری نے گزشتہ روزغیرذمہ دارانہ بیان دیا، انہوں نے ذومعنی بات کی جب کہ فواد چوہدری کا بیان عدالتی کارروائی کا حوالے سے تھا، فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کرانے کی کیا ضرورت ہے انہیں بلائیں میں بتاتا ہوں کہ کیا ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فواد چوہدری کو جن باتوں کا علم نہیں نہ کیا کریں، انہوں نے شاید عدالت کونشانہ بنایا ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کو وضاحت کے لیے بلایا جائے، دیکھیں گے پردے کے پیچھے کون ہے۔واضح رہے کہ فواد چوہدری نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو پھر وزیراعظم منتخب کرنے اورالیکشن کرانے کا کیا فائدہ ہے، بیورو کریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلالیتے۔
آپ کا تبصرہ