کشمیر میں ٓج دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی جا رہی

ہندوستانی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کو آئندہ برس جنوری تک کے لیے ملتوی کردیا ہے ادھر کشمیر میں آج دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے کشمیر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستانی  سپریم کورٹ نے آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کو آئندہ برس جنوری تک کے لیے ملتوی کردیا ہے ادھر کشمیر میں آج دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے آرٹیکل 35 اے کی منسوخی سے متعلق مقدمے کی سماعت کو آئندہ برس کے پہلے ماہ تک کے لیے ملتوی کردیا ہے۔ اب اس کیس کی سماعت جنوری کے آخری ہفتے یا فروری کے ابتدائی دنوں میں کی جائے گی تاہم کیس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ہندوستانی سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے سماعت کو جنوری تک ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کیس کے فیصلے سے وادی میں بڑے پیمانے پر حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے جب کہ رواں برس دسمبر میں پنچائیت کے لیے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ پنچائیت الیکشن کے لیے پیرا ملٹری فورسز کی بڑی تعداد مصروف ہوگی۔ اس لیے امن و امان کو برقرار رکھنے کے ضروری ہوگا کہ کیس کا فیصلہ پنچائیت الیکشن کے بعد سنایا جائے تاکہ کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پیرا ملٹری فورسز موجود ہوں۔

ادھر کشمیری رہنماؤں نے اس آرٹیکل کے خاتمے کو کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش قرار دیتے ہوئے دو روزہ ہڑتال کی اپیل کی تھی جس پر آج کشمیر میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی جاری ہے۔ کشمیر میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل، تعلیمی ادارے بند اور ذرائع آمدورفت نہ ہونے کے باعث شاہراؤں پر مکمل سناٹا ہے۔

واضح رہے کہ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی سرپرستی میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم نے دفعہ 35۔ اے کی مدت ختم پر دفعہ کی تجدید کے بجائے مکمل طور پر منسوخی کیلئے بھارتی سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت دائر کی تھی۔ اگر یہ دفعہ ختم کردی گئی تو غیر مقامی شخص کو بھی کشمیری شہری تسلیم کرکے جائیدادیں خریدنے اور کاروبار کرنے کی اجازت حاصل ہوجائے گی۔

News Code 1883541

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 0 =