چین نے امریکی رپورٹ مسترد کردی

چین نے اپنی فوج کے بارے میں بارے امریکی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں چین کی فوجی حکمت عملی کو توڑ مروڑ کر اور جارحانہ حکمت عملی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے شینہوا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چین نے اپنی فوج کے بارے میں بارے امریکی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں چین کی فوجی حکمت عملی کو توڑ مروڑ کر اور جارحانہ حکمت عملی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ چین کی وزارت دفاع کے ترجمان وو چھن نے کہا ہے کہ چین پرامن ترقی کے راستے پر گامزن ہے، اور ہمیشہ سے عالمی امن و استحکام کا محافظ رہا ہے، تائیوان چین کا حصہ ہے، امریکہ کو تائیوان سے متعلق امور پر احتیاط برتنی چاہیے، چینی فوج اپنے ملک کے اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کی مکمل صلاحیت اور عزم رکھتی ہے۔ بحیرہ جنوبی چین کے امور کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ چین متعلقہ ممالک کے ساتھ متنازع امور پر مشاورت کرتا رہا ہے تاہم امریکہ آزاد جہاز رانی کے تحفظ کا بہانہ بنا کربار بار بحیرہ جنوبی چین میں فوجی بیڑے بھیجتا رہا ہے جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکہ ہر سال چین کی فوجی اور سکیورٹی صورتحال پر رپورٹ مرتب کرتا ہے جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔امریکہ کو سرد جنگ کی ذہنیت ترک کرنی چاہیے اور دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

واضح رہے امریکی وزارت دفاع نے حال ہی میں چین کی فوجی اور سکیورٹی صورتحال پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں چین کی فوجی اورآبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے تعلقات اور خطے کی صورتحال پر منفی تبصرہ کیا گیا ہے۔

News Code 1883223

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 12 =