ایرانی کرنسی کے بازار میں حالیہ عدم استحکام میں اغیار کا ہاتھ نمایاں

خبر آئی ڈی: 4274829 -
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایرانی کرنسی کے بازار میں حالیہ عدم استحکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے اقتصاد پر ضرب وارد کرنے اور کرنسی کے بازار میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں غیر ملکی اداروں اور دشمنوں کا ہاتھ نمایاں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح انٹیلیجنس وزیر  اور وزارت انٹیلیجنس کے اعلی اہلکاروں سے ملاقات میں ایرانی کرنسی بازار میں حالیہ عدم استحکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے اقتصاد پر ضرب وارد کرنے اور کرنسی کے بازار میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں غیر ملکی اداروں اور دشمنوں کا ہاتھ نمایاں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ملاقات کے آغاز میں شعبان المعظم کی آمد اور اعیاد شعبانیہ کے سلسلے میں مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس مہینے کو دعاؤں اور اللہ تعالی سے راز و نیاز کا مہینہ قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انٹیلیجنس ادارے کے اہلکاروں کو انقلاب اسلامی کا اہم ذخیرہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اس ادارے میں کام کرنے والے اہلکاروں کو ہمیشہ انقلابی رہنا چاہیے اور انقلابی حرکت کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دنیا میں معلومات اور اطلاعات کی جنگ کو اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمیں اس جنگ میں کسی بھی صورت میں غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے اور وزارت اطلاعات نے اس سلسلے میں گذشتہ 40 برسوں  میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلام نے ایرانی کرنسی کے بازار میں حالیہ عدم استحکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: اگر کرنسی کے معاملے میں معمولی دقت سے کام لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ اس میں اغیار اور غیر ملکی اداروں کا ہاتھ نمایاں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: انقلاب اسلامی کو امانتدار ، باصلاحیت اور فہیم افراد کی ضرورت ہے لہذا حساس اداروں  میں افراد کے انتخاب میں بڑی دقت کی ضرورت ہے اور منتخب افراد کو بھی انٹیلیجنس کے اصولوں اور قوانین کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرامیا: اسلامی نظام کے حکام کو دوسرے ممالک کے حکام کو اپنے لئے نمونہ عمل نہیں بنانا چاہیے بلکہ اسلامی نظام کے حکام کے لئے پیغمبر اسلام (ص) اور آئمہ معصومین (ع) کی زندگی اور ان کی رفتار نمونہ عمل ہونی چاہیے۔

تبصرہ ارسال

7 + 7 =