مغربی عورت بے حیائی کا مظہر / ایمان ، عفت اور حیا مسلمان عورت کی اہم خصوصیات

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے خواتین کے لئے انحرافی اور غلط نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج مغربی خاتوں ایک منحرف نمونہ ہے جو مردوں کی جنسی لذات کا سبب اور ان کے ہاتھ کا کھلونا بن گئی ہے۔ جبکہ اسلامی خواتین ایمان، عفت، حیا اور پاکیزگی کے صفات سے آراستہ ہوتی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یغمبر اسلام (ص) کی لخت جگر اور شفیعہ روز جزا حضرت فاطمہ زہرا (س) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے بعض شعراء اور ذاکرین اہلبیت علیھم السلام نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس ملاقات میں  خواتین کے لئے انحرافی اور غلط نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج مغربی خاتوں ایک منحرف نمونہ ہے جو مردوں کی جنسی لذات کا سبب اور ان کے ہاتھ کا کھلونا بن گئی ہے۔ جبکہ اسلامی خواتین ایمان، عفت اور پاکیزگی کے صفات سے آراستہ ہوتی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک بھر کے بعض مداحان ، شعراء اور ذاکرین سے ملاقات میں فرمایا: مسلمان خاتون ایمان اور عفاف کی حامل ہوتی ہے جو اپنی آغوش میں بہترین افراد کی تربیت کرتی ہے جو معاشرے اور سماج میں اہم اور مؤثر کردار ادا کرتی ہے جو مرد کے لئے آرام و سکون کا باعث بنتی ہے۔

مسلمان عورت نرم دل اور  لطیف طبع ہونے کے ہمراہ انوار الہی کے حصول کے لئے ہمیشہ آمادہ رہتی ہے۔

رہبر معظم نے فرمایا: ہمیشہ اچھے نمونوں کے مقابلے میں برے اور منحرف نمونے بھی ہوتا ہے اور آج مغربی عورت برے اور منحرف نمونے کی علامت ہے جو برہنگی ، بے حیائی اور اخلاقی فساد کا مظہر ہے۔ مغربی عورت کا معیار برہنگی ہے مغرب کے رسم و رواج میں مرد اچھے اور مہذبانہ لباس میں حاضر ہوتے ہیں جبکہ عورتیں برہنہ اور عریاں حاضر ہوتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغربی عورت کا معیار برہنگی اور بے حیائی کو رواج دینا ہے ۔

رہبر معظم نے فرمایا: مغربی ممالک میں عورت کا عورت کے حقوق کے نام پر بری طرح استحصال کیا جاتا ہے جبکہ اسلام نے عورت کو عزت، عظمت اور سرافرازی اور سربلندی عطا کی اور مسلمان خاتون شرم و حیا کا مظہر ہے کیونکہ اس کے لئے اصلی نمونہ پیغمبر اسلام حضرت ممحد مصطفی (ص) کی لخت جگر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا ہیں۔

News Code 1879234

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 1 =