ایران اور روس کا شام میں  باہمی تعاون کا تجربہ، مشترکہ اہداف کو محقق کرنے  میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شام میں ایران اور روس کے باہمی تعاون کے تجربہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شام میں ایران اور روس کے باہمی تعاون کے تجربہ سے ثابت ہوگيا ہے کہ تہران اور ماسکو دشوار اور سخت میدانوں میں مشترکہ اہداف کو محقق کرسکتے ہیں۔

مہر خبـررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتین اور اس کے ہمراہ وفد نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی اس ملاقات میں رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شام میں ایران اور روس کے باہمی تعاون کے تجربہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: شام میں ایران اور روس کے باہمی تعاون کے تجربہ سے ثابت ہوگيا ہے کہ تہران اور ماسکو دشوار اور سخت میدانوں میں مشترکہ اہداف کو محقق کرسکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران اور روس کےدرمیان تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کی روسی صدر کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئےفرمایا: دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائي مسائل میں مفید تجربات حاصل ہوئے ہیں جن کی روشنی میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور مضبوط اور مستحکم کرنے کے سلسلے میں استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو موجود ظرفیت سے کہیں زیادہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایران اور روس باہمی اقتصادی تعاون کو چاہ بہار بندرگاہ سے لیکر سینٹ پیٹرز برگ بندرگاہ تک فروغ دے سکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شام میں ایران اور روس کے درمیان شاندار تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: شام میں تہران اور ماسکو کے باہمی تعاون سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے ساتھ سخت اور دشوار میدانوں میں مشترکہ اہداف کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران اور روس کے اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور اس کے اتحادی آج بھی دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مشترکہ ایٹمی معاملے میں امریکہ کی بد عہدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ  آشکارا طور پر دوسرے ممالک کے معاملات میں بے جا مداخلت کررہا ہے اور اپنے آپ کو پوری دنیا کا تھانیدار سمجھتا ہے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے باہمی تجارتی معاملات میں ڈالر کو حذف کرنے کی تجویز کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا: ہم ڈالر کو باہمی معاملات میں حذف کرکے امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کو غیر مؤثر بنا سکتے ہیں۔ یہ ملاقات سوا گھنٹے تک جاری رہی۔

اس ملاقات میں ایران کے صدر حسن روحانی بھی موجود تھے ۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے تہران کے دورے اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ ملاقات  پر اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کو اسٹراٹیجک ساتھی اور اپنا عظیم ہمسایہ سمجھتے ہیں ہم دونوں ممالک کے درمیان ہمہ گیر تعاون کوفروغ دینے اور باہمی تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے عزم پر قائم  ہیں۔ روسی صدر نے شام میں ایران اور روس کے باہمی تعاون کو اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ شام میں قیام امن کے سلسلے میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہےگی ۔ روسی صدر نے کہا کہ روس ، ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو ایران کے دفاعی مسائل سے منسلک کرنے کے خلاف ہے ۔ روسی صدر نے کہا کہ شام کی ارضی سالمیت روس کے لئے اہم ہے اور روس شام کے قانونی صدر کی حمایت جاری رکھےگا۔ روسی صدر نے کہا کہ ہم جس کام کا فیصلہ کریں اسے انجام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ہم جس کے ساتھ کام کا آغاز کرتے ہیں آخر تک اس کے ساتھ رہتے ہیں۔

News Code 1876367

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 8 =