یمن میں انسانی نسل کشی اور قتل عام پر سعودی عرب کے حکام کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا مطالبہ

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بین الاقوامی امور کے مشیرنے یمنی عوام کے خلاف سعودی عرب کے بھیانک اور ہولناک جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں انسانی نسل کشی اور انسانی قتل عام پر سعودی عرب کے حکام کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بین الاقوامی امور کے مشیرحسین امیر عبداللہیان نے یمنی عوام کے خلاف سعودی عرب کے بھیانک اور ہولناک جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں انسانی نسل کشی اور انسانی قتل عام پر سعودی عرب کے حکام کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔

حسین امیر عبداللہیان نےیمن کے دارالحکومت صنعا میں مجلس عزا پر سعودی عرب کے جنگی جہازوں کی وحشیانہ بمباری میں 900 افراد کے شہید اور زخمی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام نے جنگ میں سعودی عرب کے دانت کھٹے کردیئے ہیں سعودی عرب چند گھنٹوں میں یمن پر قبضہ کرنا چاہتا تھا لیکن یمن کی فورسز اور اسلامی تنظيم انصار اللہ نے سعودی عرب کے اس خواب کو چکناچور کردیا اور سعودی عرب چند گھنٹوں اور چند دنوں کی لڑائی ڈیڑھ سال سے لڑ رہا ہے اور سعودی عرب کو اس غیر منصفانہ اور نابرابر جنگ میں بھی شکست اور ناکامی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ یمنی عوام کی نسل کشی اور قتل عام پر کمر بستہ ہوگیا ہے۔

امیر عبداللہیان نے کہا کہ سعودی عرب میں یمن کے خلاف لڑنے کی اتنی ہمت نہیں تھی لیکن اس نے امریکہ سمیت دس عرب ممالک کی حمایت سے یمن پر حملہ کردیا اور اس امریکی اور سعودی اتحاد کو بھی یمنی عوام کی طرف سے زبردست مزاحمت اور شکست کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ در حقیقت اسرائیل اور سعودی عرب کے بھیانک  اور وحشیانہ جرائم میں برابر کا شریک ہے۔

News Code 1867612

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 0 =