نائن الیون کا سانحہ خود امریکی حکومت کا کارنامہ

امریکی ماہرین کے مطابق نائن الیون کا سانحہ خود امریکی حکومت کا کارنامہ ہے سعودی عرب امریکہ کا اہم اتحادی ملک ہے اور نائن الیون حملے امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کی ملی بھگت سے ہوئے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے برطانوی اخبار ڈیلی اسٹار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی ماہرین کے مطابق نائن الیون کا سانحہ خود امریکی حکومت اور اس کی اتحادی حکومت سعودی عرب کا کارنامہ ہے سعودی عرب امریکہ کا اہم اتحادی ملک ہے اور نائن الیون حملے امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کی ملی بھگت سے ہوئے۔برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق کرٹ سونین فیلڈ شخص کا کہنا ہے کہ جب نائن الیون کا واقعہ رنما ہوا تو اس وقت وہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں گراﺅنڈ زیرو پر موجود تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ ”میرے پاس کئی ایسے ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف بش انتظامیہ کو پہلے سے ہی اس واقعے کا علم تھا بلکہ وہ خوداس دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھی۔ رپورٹ کے مطابق 39سالہ کرٹ سونین اس وقت امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ایک ذیلی ادارے کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ یہ ذیلی ادارہ برطانوی ایجنسی ایم آئی 5کی طرز کا ادارہ ہے۔ سونین نائن الیون کے واقعے کے وقت ٹریڈ سنٹر میں مختلف چیزوں کی عکس بندی کے لیے موجود تھا لیکن اس نے یہاں بننے والی ویڈیو کبھی امریکی حکام کے حوالے نہیں کی کیونکہ اس کے فوری بعد اس کی اپنی زندگی میں ایک بھونچال آ گیا تھا۔ 2002ءمیں اس پر اپنی بیوی نینسی کو سر میں گولی مار کر قتل کرنے کا الزام عائد ہوا اور اسے امریکہ سے فرار ہو کر ارجنٹینا میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا، جہاں بالآخر اس نے اب سچ بولنے کا حوصلہ پا لیا ہے۔ اس وقت سونین کی عمر 54سال ہے اور وہ تاحال امریکہ میں اپنی 36سالہ بیوی کے قتل کے الزام میں مطلوب ہے۔ سانحے میں امریکی حکومت کے ملوث ہونے کے شواہد بیان کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ ”ورلڈ ٹریڈ سنٹر 6کے تہہ خانے میں ایک بڑے کمرے میں اہم دستاویزات و دیگر اشیاءموجود تھیں جو میں نے دیکھا کہ ٹاور سے جہازوں کے ٹکرائے جانے سے کچھ ہی دیر قبل تیزی سے وہاں سے نکالی جا رہی تھیں۔ اس سے میں کلی طور پر یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کو اس واقعے کا علم تھا اور انہوں نے اسے رونما ہونے دیا۔ وہ نہ صرف جانتے تھے بلکہ ان کا تعاون بھی اس میں شامل تھا۔ ذرائع کے مطابق نائن الیون حملوں میں زیادہ تر سعودی عرب کے شہری ملوث تھے جن کے امیرکی حکام کے ساتھ قریبی روابط تھے۔
 

News Code 1865233

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha