پاکستان کا افغان صدراشرف غنی کے بیان پر رد عمل

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے افغان صدر اشرف غنی کے گزشتہ روز افغان پارلیمنٹ میں خطاب کے رد عمل میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے افغان صدر اشرف غنی کے گزشتہ روز افغان پارلیمنٹ میں خطاب کے رد عمل میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پاکستانی ترجمان نے دہشت گرد گروپوں کے درمیان کسی بھی طرح کی تفریق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے پرعزم ہے۔

نفیس زکریا کے مطابق افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے چار ملکی گروپ مشترکہ طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ پاکستان بھی افغان امن عمل میں تعاون کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہا ہے، لیکن تشدد اور خون خرابے سے امن حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہے کہ  گزشتہ روز افغان پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران صدر اشرف غنی نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے بجائے جنگ کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ایسے دشمنوں کا سامنا ہے جو کہ پاکستان میں طالبان کے غلام ہیں۔ افغانستان ہمیشہ پاکستان پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ افغان طالبان دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے۔

News Code 1863579

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 7 =