4 اپریل، 2014، 1:37 PM

ہندوستان

بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے منظم سازش کے تحت شہید کیا

بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے منظم سازش کے تحت شہید کیا

مہر نیوز/ 4 اپریل / 2014 ء :ہندوستانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے منظم سازش کے تحت شہید کیا جس کا علم سابق بھارتی وزیر اعظم نرسمہا راؤ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ایل کے ایڈوانی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو بھی تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے منظم سازش کے تحت شہید کیا جس کا علم سابق بھارتی وزیر اعظم نرسمہا راؤ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ایل کے ایڈوانی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو بھی تھا۔

اطلاعات کے مطابق  بابری مسجد پر حملے کو " آپریشن جنم بھومی " کا نام دیا گیا تھا، اس کا منصوبہ سنگ پریوار کے مختلف دھڑوں نے تیار کیا، اس کے لئے ہندو انتہا پسند جماعت شیو سینا کی بھی مدد لی گئی اور مسجد پر حملے کے لئے ایک ماہ تک تیاری کی گئی، مسجد کو شہید کرنے کے لئے 38 سابق انتہا پسند فوجی افسران کو اونچی اور بلند وبالا عمارتوں کو سر کرنے کی خصوصی تربیت دی گئی اور اس گروہ سے وعدہ لیا گیا کہ وہ کسی بھی حال میں پکڑے جانے پر سچائی بیان نہیں کریں گے جس کے بعد 6 دسمبر 1992 کو تربیت یافتہ ہندو شدت پسندوں نے 16ویں صدی کی یادگارمسجد کو شہید کردیا۔مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے جس میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بابری مسجد کو شہید کرنے میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس دونوں ملوث ہیں۔

News ID 1834768

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha