مہرخبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں طالبان دہشت گردوں نے دو دھماکوں میں کم سے کم گیارہ طالبات اور کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنرکو ہلاک کردیا جبکہ ان دھماکوں میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت بیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق پہلا دھماکہ سنیچر کی دوپہر سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی ایک بس میں ہوا اور اس دھماکے کی زخمی طالبات کو بولان میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا جہاں شعبہ حادثات میں دوسرا دھماکہ ہوا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو ابھی تک جاری ہے۔حکام کے مطابق مسلح افراد ہسپتال کی چھت پر سے فائرنگ کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جب دوسرے دھماکے کے وقت کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر دونوں ہسپتال میں موجود تھے اور ڈپٹی کمشنر عبدالمنصور کاکڑ ہلاک اور اسسٹنٹ کمشنر انور علی شر زخمی ہوئے ہیں۔ جب دوسرے دھماکے کے وقت کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر دونوں ہسپتال میں موجود تھے اور ڈپٹی کمشنر عبدالمنصور کاکڑ ہلاک اور اسسٹنٹ کمشنر انور علی شر زخمی ہوئے ہیں۔ ادھرآج صبح بلوچستان کے شہر زیارت میں واقع پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی رہائش گاہ زیارت ریزیڈنسی کے اطراف چار زوردار دھماکے ہوئے ہیں جن سے لکڑی سے بنی اس عمارت کی دیواروں کے سِوا تمام سامان جل کر تباہ ہوگیا۔ دہشت گرد تنظیموں نے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
مہر نیوز/15 جون /2013ء:پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سلفی وہابی طالبان دہشت گردوں نے دو دھماکوں میں کم سے کم گیارہ طالبات اور کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنرکو ہلاک کردیا جبکہ ان دھماکوں میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت بیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
News ID 1823510
آپ کا تبصرہ