مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں انقلابِ اسلامی کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں شاندار تقریبات اور ریلیوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ عوام صبح سویرے ہی گھروں سے نکل آئے تاکہ انقلاب، وطن کے شہداء اور قیادت کے ساتھ اپنے 47 سالہ عہد کی تجدید کر سکیں۔
اگرچہ اسلامی تبلیغات رابطہ کونسل کی جانب سے تقریبات کے باضابطہ آغاز کا وقت صبح ساڑھے نو بجے مقرر کیا گیا تھا، تاہم شہری صبح کی ابتدائی ساعتوں سے ہی ریلیوں کے راستوں پر پہنچنا شروع ہو گئے۔
شرکاء کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بھرپور موجودگی کے ذریعے رہبر انقلاب کے پیغام پر لبیک کہتے ہوئے دشمن کو واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایرانی قوم کو دباؤ یا دھمکیوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔
زاہدان میں شیعہ سنی اتحاد کا عملی مظاہرہ
صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان میں بھی جشنِ انقلاب کی تقریبات بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شروع ہو گئیں۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد—شیعہ اور سنی—بڑی تعداد میں ایک ساتھ ریلی میں شریک ہوئے اور قومی یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق مرد، خواتین، بزرگ اور نوجوان سبھی پرجوش انداز میں ریلی کے راستوں پر جمع ہوئے اور یہ ثابت کیا کہ مختلف قومیتوں اور مسالک کے باوجود ایرانی قوم ایک مضبوط بندھن میں جڑی ہوئی ہے۔
اہواز میں عوامی جوش و خروش
صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز میں بھی انقلاب کی سالگرہ کی ریلیوں کا آغاز بھرپور انداز میں ہوا۔ شہر کی اہم شاہراہیں صبح سے ہی عوام کے ہجوم سے بھر گئیں۔

مولوی اسکوائر سے شروع ہونے والی ریلی سلمان فارسی اسٹریٹ تک پھیل چکی ہے جہاں ہزاروں افراد ایرانی پرچم اٹھائے، انقلابی نعرے لگاتے ہوئے مارچ کر رہے ہیں۔
خاندانوں، طلبہ، مزدوروں، ملازمین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پرجوش انداز میں ان تقریبات کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز لیے شرکاء قومی اتحاد اور انقلاب سے وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں۔
ملک کے دیگر شہروں اور دیہاتوں سے بھی اسی طرح کی پرجوش عوامی شرکت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایرانی قوم آج بھی اپنے انقلاب کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑی ہے۔
آپ کا تبصرہ