مہرخبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی معاملے کے بارے میں انعطاف کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پابندیوں سے معاملہ حل نہیں ہوگا ٹوکیو میں ایک اخباری کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ محض پابندیا ں عائد کرنے سے یہ معاملہ حل نہیں ہوگا پابندیوں پر توجہ مرکوز رکھنے کے علاوہ شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر لانے کے سلسلے میں کوششیں ہونی چاہییں اور دیکھنا چاہیے کہ شمالی کوریا اس سلسلے میں کچھ نرمی دکھائے گا یا نہیں ؟ جس کے نتیجے میں شمالی کوریا کا ایٹمی بحران ختم کرنے میں مدد مل سکے محمد البرادعی کا کہنا ہے کہ یہی صورتحال ایران کے ایٹمی معاملے کے سلسلے میں بھی اختیار کرنی چاہیے البرادعی نے کہا کہ اگر شمالی کوریا ہری جھنڈي دکھا دے تو ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کار شمالی کوریا واپس جانے کے لئے تیار ہیں سکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا کے پہلےایٹمی تجربے کے بعد اس پرمزید پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک ایران کے پر امن ایٹمی پروگرام کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس سلسلے میں چین اور روس کی مخالفت کا انھیں سامنا ہے ادھرشمالی کوریا نے چھ فریقی مذاکرات میں واپس آنے پر آمادگی کا اظہار بھی کیا ہے
البرادعی
البرادعی نے ایران اور شمالی کوریا کے بارے میں انعطاف کا مطالبہ کیا ہے
بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی معاملے کے بارے میں انعطاف کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پابندیوں سے معاملہ حل نہیں ہوگا
News ID 414890
آپ کا تبصرہ