5 اکتوبر، 2026، 10:19 AM

ایران سفارتکاری اور دفاع، دونوں محاذوں پر سنجیدہ اور پُرعزم ہے، سید عباس عراقچی

ایران سفارتکاری اور دفاع، دونوں محاذوں پر سنجیدہ اور پُرعزم ہے، سید عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران سفارتکاری کے راستے پر سنجیدگی سے گامزن ہے اور جس عزم کے ساتھ اپنے دفاع کو یقینی بناتا ہے، اسی استقامت کے ساتھ سیاسی و سفارتی حل کی بھی حمایت کرتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں غیر ملکی سفیروں، سفارتی مشنز کے سربراہان اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی میں ایرانی وفد کی سرگرمیوں اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے ایران کے مؤقف کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وفد نے عالمی رہنماؤں، وزرائے خارجہ اور بین الاقوامی اداروں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ وسیع پیمانے پر ملاقاتیں کیں، جن میں علاقائی سلامتی، دوطرفہ تعلقات اور موجودہ بحرانوں کے حل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

عراقچی کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں سلامتی کی بحالی کے لیے اپنی مجوزہ ’’سات روزہ منصوبہ‘‘ عالمی برادری کے سامنے پیش کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ تہران کشیدگی میں اضافے سے گریز اور مسائل کے سفارتی حل کے لیے سنجیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دنیا پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ ایران مذاکرات اور سفارتکاری کے راستے پر قائم ہے، تاہم اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع میں بھی پوری طرح ثابت قدم ہے۔

وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے مخالفین دوبارہ فوجی راستہ اختیار کرتے ہیں تو انہیں پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم اگر سفارتی حل کو ترجیح دی جائے تو ایران ایک منصفانہ اور باوقار حل کے لیے بات چیت جاری رکھنے کو تیار ہے۔

انہوں نے بعض امریکی حکام کی جانب سے ایرانی وفد کے بارے میں سامنے آنے والے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وفد کی آمد و رفت پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوئی اور اس حوالے سے کیے گئے دعوے حقائق کے منافی ہیں۔

عراقچی نے کہا کہ نیویارک میں ایران کی فعال اور مؤثر موجودگی نے ان تصورات کو غلط ثابت کر دیا کہ ایران عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ ان کے بقول ایران نے ایک بااثر اور ذمہ دار ملک کے طور پر عالمی فورم پر اپنا کردار ادا کیا اور امن و استحکام کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں۔

وزیر خارجہ نے خلیج فارس کے ممالک سمیت ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں اعتماد سازی، حسنِ ہمسائیگی اور مشترکہ سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے یورپی حکام کو خطے کے بارے میں ایک متوازن، ذمہ دار اور آزادانہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے۔

عراقچی نے امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں سے ایرانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا اور ایران اپنے حقوق، خودمختاری اور قومی وقار کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام جاری رکھے گا۔

News ID 1941873

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha