25 ستمبر، 2026، 4:07 PM

موجودہ بحران کا ذمہ دار امریکہ ہے، ایران اپنے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھے گا، صدر پزشکیان

موجودہ بحران کا ذمہ دار امریکہ ہے، ایران اپنے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھے گا، صدر پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی چینل کو خصوصی انٹرویو میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند نہیں کی تھی، بلکہ اس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں موجودہ صورتحال پیدا ہوئی اور ایران اپنے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خلیج فارس میں درپیش بحران کا ذمہ دار امریکی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے پروگرام اسپیشل رپورٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اس دعوے کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا کہ تہران جوہری بم حاصل کرنا چاہتا ہے۔

فاکس نیوز کے میزبان بریٹ بائر کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ جوہری بم چاہتے ہیں یا نہیں؟‘ پزشکیان نے کہا کہ بالکل نہیں، بالکل نہیں۔ ہمارے شہید اور محترم رہبر اعلی نے کئی مرتبہ اعلان کیا تھا کہ ایک فتویٰ کی بنیاد پر یہ اقدام ناجائز اور غیر قانونی ہے۔

صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ یہ ہتھیار بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار ہے۔ ہم نے اعلان کیا ہے کہ ہم تیار ہیں کہ اسے (اعلیٰ افزودہ یورینیم) کم افزودگی کی سطح پر لے آئیں۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم تصدیق اور نگرانی کے لیے بھی تیار ہیں۔

اسلام آباد مفاہمت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے؛ ہم آپ کے صدر کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچے تھے۔ اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے اور ہم اب بھی اس کے مطابق آگے بڑھنے کے خواہش مند ہیں۔

صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ اس فریم ورک پر اتفاق ہوچکا تھا۔ ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا تھا؛ یہ آبنائے بغیر کسی جواز یا قانونی فریم ورک کے کھلی تھی۔ انہوں نے ہم پر حملہ کیا۔ انہوں نے ہمارے رہبرِ اعلیٰ، ہمارے سائنس دانوں، فوجی کمانڈروں اور حکومتی عہدیداروں کو شہید کیا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ مذاکرات کے بجائے ہم پر بمباری اور تمام راستے مسدود کرکے محاذ آرائی میں داخل ہوتا ہے۔ ہم تیار ہیں۔ عالمی سطح پر معاملات سے نمٹنے کا یہ طریقہ نہیں ہے۔ وہ ہم پر دباؤ اور پابندیاں عائد کرکے اور ہماری رسائی محدود کرکے ہمیں مجبور نہیں کرسکتے۔

صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ ہم امریکیوں کو قتل کرنا نہیں چاہتے، جیسا کہ ہمارے اقدامات، جنہیں ثابت کیا جاسکتا ہے، اس بات کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ امریکہ ہے جو ایرانیوں کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ اگر ہم پر حملہ کیا جائے تو ہمیں اپنا دفاع کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ صورتحال ہے جس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ ہم مزاحمت جاری رکھیں گے۔ ہم راستے تلاش کریں گے اور ہمارے ملک کی زندگی جاری رہے گی؛ ہم قائم رہیں گے۔ ہاں، ہمیں یقیناً معاشی مشکلات کا سامنا ہے، لیکن بقا کے لیے ہم ہر مشکل سے گزریں گے اور اسے برداشت کریں گے۔ اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمارے خلاف پابندیاں جاری رکھ سکتا ہے تو ہمیں ان اقدامات سے کوئی سروکار نہیں اور ہمیں امریکی انتخابات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قانونی فریم ورک کے اندر کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتی ہے تو ٹھیک ہے؛ بصورت دیگر، یہ انتخابات سے پہلے ہو یا بعد میں، ہمارے لیے اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دفاع کے لیے پوری قوت کے ساتھ ڈٹے رہیں گے۔ ہم نے کبھی جنگ کی تلاش نہیں کی اور نہ ہی جنگ چاہتے ہیں۔ میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ انسانوں کو دوسرے انسانوں کی موت کا سبب نہیں بننا چاہیے، لیکن اسرائیل نے اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں کے ذریعے یہ جنگ ہم پر مسلط کی ہے۔ اب امریکہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اس صورتحال کو ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں؟

News ID 1941642

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha