مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے 70واں عمومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نمائندے نے ایران کے نائب صدر اور جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی کو ویانا میں اجلاس میں شرکت سے روکنے کا اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے پابندیوں سے استثنا دینے کی درخواست کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پابندیوں کی کمیٹی کے ضوابط کے تحت اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس کے بقول، امریکہ ایران کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا سفارتی حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تاہم وہ ایسے ایرانی عہدیدار کے ایٹمی توانائی ایجنسی کے عمومی اجلاس میں سفر سے اتفاق نہیں کر سکتا جس پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں عائد ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کی جانب سے جوہری حفاظتی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی بامعنی تعاون نہیں کیا جا رہا۔
امریکی نمائندے نے مزید بے بنیاد دعوے کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فرد کی اجلاس میں شرکت ایران کو معقول تعاون فراہم کیے بغیر اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرتی۔ امریکی نمائندے کے مطابق، اس سے ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور تصدیق کی ذمہ دار بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی ساکھ متاثر ہوتی اور امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت داروں کی سلامتی کے مفادات کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوتا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ محمد اسلامی کی ذمہ داری کے دوران ایران میں ایسی سرگرمیاں انجام دی گئیں جو محض پُرامن جوہری پروگرام سے مطابقت نہیں رکھتیں اور یہی ان کا نام اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کی ایک وجہ تھی۔
دوسری جانب، اس سے قبل ویانا میں ایرانی سفیر اور مستقل نمائندے رضا نجفی نے بھی اسی اجلاس میں محمد اسلامی کی شرکت روکنے کو ایران کے حقوق اور میزبان ملک کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آسٹریا سے فوری اصلاحی اقدام اور ایسے واقعات کے دوبارہ پیش نہ آنے کی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
آپ کا تبصرہ