مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت دفاع کے قائم مقام سربراہ بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن الرضا نے وزارت دفاع کی صنعتی تنظیموں کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے بعض امریکی عہدیداروں کی جانب سے بار بار دی جانے والی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں کو دہرا کر وہ ایران کی ارادہ بدلنے یا اسلامی جمہوریہ ایران کو خوفزدہ کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، لیکن وہ سخت غلطی پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے کا انٹیلیجنس اور تجزیاتی نظام زمینی حقائق کو درست طور پر دیکھ اور سمجھ سکتا ہو تو وہ ایسی دھمکیوں پر اصرار نہیں کرسکتا جن کی غلطی بارہا ثابت ہوچکی ہے۔
ابن الرضا نے کہا کہ دشمن کو یہ سادہ اور واضح حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ایران سے دھمکی کی زبان میں بات نہیں کی جاسکتی۔ اسلامی جمہوریہ ایران ان دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ ہمارے نزدیک یہ دھمکیاں عملی اعتبار سے بے وقعت ہیں اور ان کے پیچھے حقیقی فوجی صلاحیت سے زیادہ سیاسی پیغام یا سیاسی بیان ہوتا ہے۔
انہوں نے خطے کی صورتحال اور امریکہ و اسرائیل کی پالیسیوں کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج خطے میں جو حالات اور حقائق دیکھے جارہے ہیں، وہ ان کی غلط پالیسیوں اور غلط اندازوں کا نتیجہ ہیں۔ ایران کبھی اپنے ہمسایہ ممالک اور خطے کی اقوام کے لیے خطرہ نہیں رہا اور نہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آج دوبارہ جنگ شروع ہوتی ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران گزشتہ جنگوں کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں کہیں زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ انداز میں کارروائی کرے گا۔ جو لوگ ملک میں تکنیکی سرگرمیوں، پیداواری لائنوں اور دفاعی کارخانوں کے تسلسل کو محض میڈیا کی خبر سمجھتے ہیں، انہوں نے میدان میں ایرانی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ جو کچھ کبھی کبھار دکھایا جاتا ہے، وہ ملک کی دفاعی صنعت کی حقیقی صلاحیتوں اور موجودہ استعداد کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے۔
ابن الرضا نے کہا کہ آج ایران اپنی تاریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ مضبوط، متحد اور بیدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی دفاعی اور تکنیکی صلاحیتیں بھی میدان کے تجربات اور حاصل ہونے والے اسباق کی بنیاد پر ترقی اور بہتری کے راستے پر گامزن ہیں۔
انہوں نے ملک کی مختلف سطحوں کے درمیان ہم آہنگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے مختلف اداروں اور سطحوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور فیصلہ سازی کے عمل میں بھی یہ ہم آہنگی بے مثال ہے۔ ملک مکمل اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ مسلسل، تیز رفتاری اور بھرپور جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
قائم مقام وزیر دفاع نے کہا کہ کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری موجود ہے اور یہ تیاری اپنی آزاد صلاحیتوں اور حکمت عملیوں پر مبنی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے اپنی مرضی، مقامی صلاحیتوں اور داخلی وسائل پر انحصار کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ