مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک مغربی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا ہے کہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ عناصر کی فہرستیں فرضی ناموں سے بھری ہوئی تھیں تاکہ ماہانہ تنخواہیں وصول کی جا سکیں، جبکہ عملی طور پر صرف 20 فیصد اہلکار ہی میدان میں موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال سعودی حمایت یافتہ عناصر میں کئی سال سے جاری انتظامی بدعنوانی کا نتیجہ ہے۔
جنوبی یمن کی عبوری کونسل کے اہم عہدیدار عمرو البیض نے کہا کہ کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں تھی اور بدانتظامی کا سامنا تھا۔
امریکی حکومت کے سابق مشیر محمد الباشا نے کہا کہ انصار اللہ کے مخالف دھڑوں کے سرکردہ افراد کے درمیان اندرونی اختلافات نے دفاعی لائنوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں انصار اللہ مخالف اتحاد میں سیاسی ہم آہنگی موجود نہیں اور کوئی متحدہ کمان بھی نہیں ہے۔
سی این این کے مطابق گذشتہ روز انصار اللہ کے دستوں کی بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر واقع جزیرہ بریم کی جانب پیش قدمی کے نتیجے میں باب المندب آبنائے کا کنٹرول عملاً انصار اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا۔
آپ کا تبصرہ