مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے ایران کے خلاف دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان جنگوں نے امریکہ اور اسرائیل کی فوجی طاقت کے بارے میں قائم کئی تصورات کو بدل دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اللہ پر توکل، عوامی حمایت، مضبوط قیادت اور غیر معمولی جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے دنیا کی دو جدید ترین اور جوہری طاقتوں کا مقابلہ کیا اور انہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا۔
جنرل شکارچی نے میڈیا کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران صحافیوں، میڈیا منتظمین اور ذرائعِ ابلاغ نے صرف خبریں نشر نہیں کیں؛ بلکہ بیانیے، جنگ نرم اور اطلاع رسانی کے محاذ پر بھی اپنا کردار ادا کیا۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ مشکل حالات میں ایرانی معاشرے کے مختلف طبقات نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور دشمن کے خلاف قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی اقدامات کو گزشتہ 47 برسوں کی مسلسل دشمنی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن نے سیاسی، اقتصادی، فوجی اور دیگر ذرائع سے ایران کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن ان تمام کوششوں کے نتیجے میں ایران مزید مضبوط ہوا۔
شکارچی کے مطابق، دشمن نے ایران کو کمزور سمجھ کر جنگ شروع کی، مگر خود ایک ایسے دلدل میں پھنس گیا جس سے نکلنا اس کے لیے مشکل ہوگیا۔
جنرل شکارچی نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ میں چھ بڑے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی: خطے میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کو تباہ کرنا، ایران کی جوہری تنصیبات کو ختم کرنا، اس کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو تباہ کرنا، ایران کے توانائی کے وسائل اور جغرافیائی اہمیت پر تسلط حاصل کرنا، اسلامی جمہوری نظام کا تختہ الٹنا اور بالآخر ایران کو تقسیم کرنا۔لیکن ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمتی گروہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں، ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں اور ایرانی میزائل و ڈرون صلاحیت بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی دعوؤں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے شکارچی نے کہا کہ امریکہ اسے اپنے علاقے کا حصہ بنانے کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ ایران خطے میں امریکی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا اور مغربی ایشیا سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے مزاحمت جاری رکھے گا۔
انہوں نے امریکی بیانات کو نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن جو کچھ میدانِ جنگ میں حاصل نہیں کرسکا، وہ اب نفسیاتی دباؤ اور پروپیگنڈے کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔
جنرل شکارچی نے ایران کی کامیابی کے چار اہم عوامل بیان کیے۔ پہلا اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان اور توکل، دوسرا دانش مند اور مدبر قیادت، تیسرا عوام کی بھرپور حمایت اور چوتھا اسلامی جمہوریہ ایران کی پُرعزم مسلح افواج۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی فوجی شہادت کو اعزاز سمجھتے ہیں اور عوام و سرزمین کے دفاع کے لیے آخری حد تک لڑنے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہی جذبہ امریکی و اسرائیلی فوجوں میں موجود نہیں، جس کے باعث جدید ترین اسلحے کے باوجود ان کی جنگی صلاحیت محدود ہوگئی۔
جنرل شکارچی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے جنگ میں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھایا، لیکن وہ اپنے نقصانات کو چھپانے کے لیے اطلاعات کو سنسر کر رہے ہیں۔ سینکڑوں امریکی فوجی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج کو بھی ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتوں اور ہزاروں زخمیوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کے پیش نظر امریکہ کی جانب سے محدود جانی نقصان کے اعداد و شمار قابلِ اعتبار نہیں۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے ایرانی مسلح افواج کی کامیابی میں غیر معمولی جنگی حکمتِ عملی کو اہم قرار دیا اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک نسبتاً کم قیمت ایرانی ڈرون کو روکنے کے لیے دشمن کو انتہائی مہنگے میزائل استعمال کرنا پڑتے تھے، جس سے ایران نے دشمن پر بھاری مالی دباؤ ڈالا۔ ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون امریکی و اسرائیلی دفاعی نظام کی مختلف تہوں کو عبور کرکے اپنے اہداف تک پہنچتے رہے۔
جنرل شکارچی نے مزید کہا کہ خطے کے مسائل کا بنیادی حل مغربی ایشیاء سے امریکی افواج کا انخلا ہے۔ ایران نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں، اس لیے ان کے مقابلے میں کمزوری دکھانے کے بجائے مضبوط مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔
آپ کا تبصرہ