مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کرغیزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات میں دونوں ممالک اور اقوام کے درمیان تعلقات و تعاون میں مسلسل وسعت پر خوشی کا اظہار کیا اور حالیہ ایرانی شہداء کی تشییعِ جنازہ کی تقریب میں پاکستانی وزیرِاعظم اور اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر نے حالیہ معاہدے تک پہنچنے والے مذاکرات میں پاکستانی حکومت کے فعال اور تعمیری کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اب بھی اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے جو دوست اور برادر ملک پاکستان کی کوششوں سے طے پایا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا فریق بھی اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتے ہوئے معاہدے پر عمل کرے۔
ڈاکٹر پزشکیان نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا پختہ یقین ہے کہ پورے خطے میں امن و سلامتی قائم ہونی چاہیے اور انسانوں کو مذہب، مسلک اور قومیت سے بالاتر ہو کر جنگ، تشدد اور تنازعات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مکہ معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ابتدا ہی سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر اسلامی ممالک متحد اور باہمی یکجہتی کا مظاہرہ کریں تو غاصب صیہونی حکومت کو اسلامی ممالک پر اس آسانی سے حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوگی۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک اپنے داخلی اختلافات اور مسائل کو حل کرنے کے لیے مطلوبہ صلاحیت اور وسائل رکھتے ہیں۔ وہ غیر ملکی مداخلت کی ضرورت کے بغیر مذاکرات اور باہمی تعاون کے ذریعے اپنے مسائل اور اختلافات کو حل کر سکتے ہیں۔
پزشکیان نے مکہ معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ اقدام کو عالمِ اسلام کے اتحاد کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہمیں امید ہے کہ خطے کے دیگر ممالک اور اسلامی ممالک بھی اس عمل میں شامل ہوں گے اور اپنے تعاون کو صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں بھی باہمی تعاون کو فروغ دیں گے۔
اس موقع پر پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہمیشہ مختلف ملاقاتوں میں آپ کی صداقت اور راست گوئی پر زور دیا ہے اور آپ کے ساتھ بات چیت اور تعامل سے خوشی محسوس کرتا ہوں۔
شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی وفود کے بڑھتے ہوئے تبادلوں اور مشاورت کے دائرہ کار میں توسیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط، تعاون اور باہمی ہم آہنگی کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
پاکستانی وزیرِاعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی اور رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بے چینی اور عدم تحفظ نے نہ صرف خطے کے عوام بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کے لیے بھی مشکلات اور تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس صورتحال کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے ممالک اپنے تعاون اور باہمی ہم آہنگی میں مزید اضافہ کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایران اور پاکستان دو برادر ممالک ہیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے عوام اور خطے کی اقوام کے امن، خوشحالی اور مسرت کے لیے کوشش کریں۔ ہم ایرانی عوام کی خوشی اور خوشحالی کو اپنی خوشی اور خوشحالی اور ان کے غم و دکھ کو اپنا غم و دکھ سمجھتے ہیں۔
پاکستانی وزیرِاعظم نے مکہ معاہدے کے حوالے سے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خطے میں امن و سلامتی قائم رہے اور علاقائی ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو۔
شہباز شریف نے اسلامی ممالک کے اتحاد کی ضرورت کے حوالے سے ایرانی صدر کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں نے ہمیشہ اسلامی ممالک کے اتحاد کے بارے میں آپ کے خیالات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اس معاملے میں آپ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔
پاکستانی وزیرِاعظم نے اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے عالمی رائے عامہ کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کی اکثریت ایران کو حق پر سمجھتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم معاہدے کے دائرہ کار اور مذاکرات کے ذریعے خطے میں امن و سلامتی قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ