مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے غزہ سے جنوبی مقبوضہ علاقوں کی جانب گزشتہ چند روز کے دوران متعدد پتنگیں بھیجے جانے کے بعد اسرائیلی فوج کو ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج کو پتنگیں اڑانے والے افراد کے ساتھ ساتھ ان پتنگوں کے بھیجے جانے کے ذمہ دار حماس کے عہدیداروں کو بھی نشانہ بنانا چاہیے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ہم ہر پتنگ کے بھیجے جانے کو جنگی کارروائی تصور کرتے ہیں۔
یہ حکم ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب گزشتہ چند روز کے دوران غزہ سے متعدد پتنگیں مقبوضہ علاقوں میں داخل ہوئیں، تاہم ان سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب صہیونی حکومت غزہ پر اپنے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکہ اور خطے کے بعض ممالک بظاہر حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سنہ 2018 میں بھی غزہ کی پٹی سے آتش گیر پتنگیں اور غبارے چھوڑے گئے تھے، جن کے باعث جنوبی اسرائیل میں متعدد مقامات پر آگ لگ گئی تھی۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے آتش گیر غبارے چھوڑنے والے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا تھا۔
دراین اثناء فلسطینی وزارت صحت نے غزہ میں اعلان کیا ہے کہ 11 اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 1,286 ہوچکی ہے، جبکہ 4,257 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران 813 شہدا کے جسد خاکی بھی ملبے اور مختلف علاقوں سے نکالے جا چکے ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کے خلاف صہیونی حکومت کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر شہدا کی تعداد 73,420 جبکہ زخمیوں کی تعداد 174,369 ہوگئی ہے۔
آپ کا تبصرہ