مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار ڈیلی تلگراف نے صہیونی مرکز برائے ذہنی صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ جنگ کے اثرات نے صہیونی معاشرے میں جاری ذہنی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ غزہ کے بعد صہیونی معاشرہ مسلسل ذہنی دباؤ، اضطرابی کیفیت اور طویل المدتی نفسیاتی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ خودکشیوں کی شرح اور ذہنی امراض میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ڈیلی ٹیلیگراف نے بتایا کہ رواں ماہ صہیونی فوج میں تین خودکشیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں دو خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی رواں سال کے آغاز سے اب تک صہیونی فوج میں خودکشیوں کی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ 15 برسوں میں سب سے زیادہ شرح ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے سب سے بڑے طبی ادارے کلالیت کی ایک تحقیق کے مطابق غزہ جنگ کے بعد صہیونی شہریوں میں بعد از صدمہ ذہنی اضطرابی کیفیت (PTSD) کے واقعات میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مقبوضہ علاقوں کے مشرقی تل ابیب میں واقع ایک بڑے ذہنی امراض کے اسپتال کے سربراہ پروفیسر امیر کریوی نے کہا کہ آنے والے عرصے میں PTSD کے متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ PTSD کے اعداد و شمار دراصل معاشرے میں پھیلے ہوئے ذہنی صحت کے وسیع بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار میں صہیونی فوج شامل نہیں، کیونکہ فوجی اہلکاروں کے ذہنی مسائل کا علاج فوجی نظام کے اندر کیا جاتا ہے اور ان سے متعلق معلومات اب بھی محدود رکھی جاتی ہیں۔
پروفیسر کریوی نے کہا کہ ذہنی صحت کے شعبے میں ماہر نفسیات اور ماہرین کی تعداد ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کے مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ افراد خود علاج کے طور پر شراب یا منشیات کا سہارا لینا شروع کرتے ہیں، جس سے بحران مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ