مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تل ابیب یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے مرکزی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2023 سے 2025 کے درمیان مجموعی طور پر 2 لاکھ 68 ہزار 930 افراد کم از کم تین ماہ کے لیے مقبوضہ فلسطین چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں تقریباً 86 ہزار 500 افراد، 2024 میں 91 ہزار 500 افراد اور 2025 میں 90 ہزار 900 سے زائد افراد مقبوضہ علاقوں سے روانہ ہوئے۔ یہ تعداد گزشتہ دہائی کے سالانہ اوسط 60 ہزار افراد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
چینل 12 سے گفتگو کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا کہ صہیونی معاشرے کی اجتماعی استقامت اور سماجی ہم آہنگی مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ڈاکٹروں، انجینئروں، جامعاتی ماہرین، ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد اور اعلیٰ آمدنی رکھنے والے طبقات کی نقل مکانی میں اضافہ ہوا، تو اس کے صہیونی معیشت، صحت کے نظام اور سکیورٹی صلاحیت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں قابض وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی جنگی پالیسیوں کو عوامی مایوسی، عدم اعتماد اور مستقبل کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کا ایک اہم سبب قرار دیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ