6 اگست، 2026، 7:23 AM

لبنان کے ساتھ مذاکرات، اسرائیل نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط چھوڑ دی، الجزیرہ

لبنان کے ساتھ مذاکرات، اسرائیل نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط چھوڑ دی، الجزیرہ

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق روم میں جاری مذاکرات کے دوران صہیونی وفد نے پہلی بار سرحدی امور پر بات چیت سے قبل حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط سے پسپائی اختیار کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الجزیرہ نے دعوی کیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان روم میں جاری مذاکرات کے دوران صہیونی وفد نے پہلی مرتبہ سرحدی امور پر بات چیت سے قبل حزب اللہ کی غیر مسلحی کو اولین شرط بنانے کے اپنے مؤقف سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ایک سینئر لبنانی سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ روم میں شروع ہونے والے مذاکرات کا تازہ دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ مذاکرات میں سرحدی تنازعات، سکیورٹی انتظامات پر عمل درآمد، اسرائیلی فوج کے انخلا اور حزب اللہ کی غیر مسلحی جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔

یہ روم میں تین روزہ مذاکرات کا دوسرا دور ہے، جو واشنگٹن میں ہونے والے پانچ ادوار کے تسلسل میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ لبنانی ذریعے کے مطابق، لبنانی وفد نے سیاسی اجلاس میں سرحدی حدود سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔

الجزیرہ کے مطابق، اس دور کی نمایاں پیش رفت یہ رہی کہ صہیونی وفد نے پہلی بار سرحدی معاملات پر گفتگو سے پہلے حزب اللہ کی غیر مسلحی کو لازمی شرط قرار دینے کے اپنے سابقہ مؤقف سے دستبرداری اختیار کی۔

رپورٹ کے مطابق، لبنانی وفد نے الخیام اور بنت جبیل کے علاقوں کو آزمائشی زون قرار دینے کی تجویز دی ہے، جہاں لبنانی فوج مکمل سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالے گی، جبکہ اس کے بدلے اسرائیلی فوج محدود پیمانے پر انخلا کرے گی۔

ادھر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ "میدانی رعایتوں" کا سلسلہ بند کرے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کو اولین ترجیح دے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں جاری ہیں جب لبنانی حکام کے مطابق گزشتہ مارچ سے جاری جھڑپوں میں 4,333 افراد شہید، 12 ہزار سے زائد زخمی اور 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ صہیونی رژیم اعلان کردہ جنگ بندی کی بھی بارہا خلاف ورزی کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے دوران بھی متعدد لبنانی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

News ID 1940564

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha