مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بدھ کے روز ایک انٹرویو میں غریب آبادی نے کہا کہ واشنگٹن نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی، ایرانی بندرگاہوں پر غیرقانونی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی، کشیدگی کو بڑھایا اور لبنان میں استحکام کے قیام میں بھی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام معاملات آبنائے ہرمز کی صورتحال سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں اور آئندہ پیش رفت کا انحصار انہی عوامل پر ہوگا۔
نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا نے حال ہی میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں اور بعض ایسی پابندیاں بھی دوبارہ نافذ کر دی ہیں جنہیں عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی کے حوالے سے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔
غریب آبادی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ سے متعلق کسی بھی انتظام یا مفاہمت کا فیصلہ صرف ایران اور عمان کے درمیان ہونا چاہیے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور مسقط نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے ایک مخصوص راہداری قائم کرنے کے حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا تھا کہ دونوں ممالک مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور مشترکہ اعلامیے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے آخری مراحل میں ہیں، جس میں باہمی اتفاق کے اہم نکات شامل ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ