مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مغربی میڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف پانچ ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور انتہائی درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کے ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے، جس پر امریکی حکومت کے اندر آئندہ ممکنہ فوجی تنازعات کے لیے عسکری تیاریوں کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے جنگ کے دوران اپنے تقریباً تمام ATACMS اور PrSM میزائل استعمال کر لیے۔ یہ میزائل امریکی بری فوج کے اہم ترین طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکہ نے جنگ شروع ہونے کے بعد اپنے عالمی ذخیرے میں موجود ٹاما ہاک کروز میزائلوں کا بھی تقریباً نصف حصہ استعمال کر لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ذخائر میں نمایاں کمی سے چین اور روس جیسے حریف ممالک کے مقابلے میں امریکہ کی ڈیٹرنس متاثر ہوسکتی ہے اور کسی نئے بحران کی صورت میں واشنگٹن کے فوجی اختیارات محدود ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہے اور ملکی دفاعی صنعتیں تیزی سے مزید ہتھیار تیار کر رہی ہیں۔
ادھر پینٹاگون کے ترجمان نے بھی دعوی کیا ہے کہ امریکی فوج اپنے تمام مشنز انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے پاس وسیع عسکری ذخائر موجود ہیں۔ تاہم دفاعی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو پیداوار میں اضافے کے باوجود ہتھیاروں کی تیاری کی رفتار ان کے استعمال کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکے گی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے فضائی دفاعی نظاموں کے میزائلوں کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک CSIS کی حالیہ رپورٹ میں بھی ان ذخائر کے بڑے حصے کے استعمال کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے دو ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اندازے امریکی داخلی اعداد و شمار سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ