مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے 4 جنوبی صوبوں کے شیعہ اور اہل سنت علماء امریکی دشمن کی جارحیت کے خلاف مقاومت اور مزاحمت اور اتحاد کو برقرار رکھنے کی رہبرِ معظم کے حکم پر لبیک کہا ہے۔
علماء نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شہید امام خامنہ ای کی عظیم الشان تشییع جنازہ کے بعد رہبر معظم آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کا حیات بخش، امید افزا اور عزم سے بھرپور پیغام اور جنوبی خطے کے شجاع اور غیور لوگوں کی غیرت اور شجاعت پر ان کی خصوصی توجہ، اسلامی ایران کے تمام جنوبی ساحلی اور سرحدی پٹی پر عوام اور سپاہیوں کے لیے باعث فخر اور باعث تقویت قلب ہے۔
صوبہ ہرمزگان، بوشہر اور سیستان و بلوچستان کے شیعہ و اہل سنت علماء اور خوزستان کے شیعہ علماء نے ان صوبوں کے غیور عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ اعلامیہ جاری کیا ہے کہ جنوبی خطہ امت واحدہ اسلامی کی عملی تجلی گاہ اور مقاومت کا ایک تسخیر ناپذیر قلعہ ہے۔ اس سرزمین کے شیعہ اور سنی بچوں کا آپس میں ملا ہوا خون، تاریخِ انقلاب کے دوران پائیداری و مزاحمت کے اس تناور درخت کو اس طرح سیراب کر چکا ہے کہ نفاق اور استکبار کا کوئی بھی حربہ ولایت کے سایے میں اس یکجہتی، برادری اور عمومی وحدت میں ذرہ برابر بھی دراڑ پیدا نہیں کرسکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی بھی قسم کی جنگ جوئی اور غلط حساب کتاب کی تکرار کی صورت میں، انہیں اس خطے میں الٰہی قہر کے طوفان اور فولادی ارادوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خلیجِ فارس کے ساحل، بحرِ مکران اور جنوب کی زرخیز مٹی کا کونہ کونہ، ابدی میدان کارزار اور عالمی استکبار کی ناپاک آرزوؤں کی قبرستان ہے۔ ہم اپنے پرعزم اور مجاہد عوام کے ایمان پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ عہد کرتے ہیں کہ کسی بھی تجاوز کے سامنے، ہم عالمی استکبار کے بوسیدہ وجود پر ماضی سے بھی زیادہ کاری اور ناقابل فراموش ضربیں لگائیں گے تاکہ وہ بھاری قیمتوں کے تلخ ذائقے اور مزید رسوائی کو اپنے پورے وجود کے ساتھ چکھ سکیں۔
بیان میں، امام خمینی، شہید امام خامنہ ای اور گرانقدر شہداء، بالخصوص خدمت اور مقاومت کے راستے کے حالیہ شہداء کے آرمانوں کے ساتھ تجدید عہد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جنوب کے غیور عوام، اس دانا و فرزانہ رہبر کے فرامین پر عملدرآمد کے لیے اپنی مکمل تیاری، بیعت اور جان کی بازی لگانے تک ہر حکم کا پابند رہنے کا اعلان کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ