مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آزاد اسلامی یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ علی اکبر ولایتی نے اعلان کیا ہے کہ جامعہ آزاد اسلامی کے ممتاز سائنس دانوں، محققین اور اساتذہ پر مشتمل 100 رکنی وفد کو یمن بھیجا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سائنسی، تعلیمی اور تحقیقی تعاون کے امکانات کا ابتدائی جائزہ لیا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق علی اکبر ولایتی نے خطے کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کے مستقل اصولوں میں اسلامی ممالک کے ساتھ یکجہتی اور ان کی تعلیمی، طبی اور تحقیقی ضروریات پوری کرنے میں تعاون شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں افغانستان، عراق اور لبنان کے ساتھ اس نوعیت کا تعاون کیا گیا، جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔
ولایتی نے یمن کے حوالے سے کہا کہ بعض مشکلات کے باعث یہ ملک اب تک ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی وسیع تعلیمی اور طبی امداد سے مکمل طور پر استفادہ نہیں کر سکا۔ تاہم حال ہی میں یمنی جامعات کے اساتذہ اور سربراہان کے ایک وفد نے تہران کے دورے کے دوران ان سے ملاقات کی اور یمنی فریق نے طبی علوم، انجینئرنگ اور انسانی علوم کے شعبوں میں تعلیمی، تحقیقی اور ثقافتی تعاون حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ جامعہ آزاد اسلامی کے سربراہ اور حجت بن الحسن عسکریؑ اسپتال کے سربراہ کی حیثیت سے اس سلسلے میں عملی اقدامات کریں گے۔
ان کے بقول، یمنی حکومت کی جانب سے باضابطہ آمادگی کے اعلان کے فوراً بعد ایران تعلیمی، تحقیقی اور نرسنگ کے شعبوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا، جبکہ پہلے مرحلے میں جامعہ آزاد اسلامی کا 100 رکنی علمی وفد ابتدائی جائزے کے لیے یمن روانہ کیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ