مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ذرائع نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری تعاون کے معاہدے کی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ چند روز میں جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کے تبادلے سے متعلق معاہدہ کانگریس میں پیش کرے گی۔
مغربی میڈیا کے مطابق امریکی حکومت کانگریس میں آرٹیکل 123 کے نام سے ایک معاہدہ پیش کرے گی، جس پر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان دستخط کریں گے۔ دونوں ممالک گزشتہ سال ریاض میں اس حوالے سے ابتدائی مفاہمت پر پہنچ چکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ امریکی اٹامک انرجی ایکٹ 1954 کی شق 123 کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے امریکی حکومت اور کمپنیاں سعودی عرب میں اربوں ڈالر مالیت کی سول جوہری صنعت کے قیام میں تعاون کر سکیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں گولڈ اسٹینڈرڈ شامل نہیں، جو سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کی دوبارہ پراسیسنگ سے روکتا ہے۔ اسی طرح اس میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا اضافی پروٹوکول بھی شامل نہیں، جو ایجنسی کو وسیع نگرانی اور اچانک معائنوں کے اختیارات دیتا ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق معاہدہ آج کانگریس میں پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسرے ذریعے نے کہا کہ یہ عمل تقریباً ایک ہفتے کے اندر مکمل ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ جوہری ایندھن کے چکر، بشمول یورینیم کی افزودگی، کے شعبے میں قانونی تعاون کی راہ فراہم کرتا ہے، تاہم امریکا اس کے تحت سعودی عرب کو متعلقہ ٹیکنالوجی یا صلاحیت منتقل کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔
امریکی قانون کے مطابق اس معاہدے کو روکنے کے لیے کانگریس کو مشترکہ قانون منظور کرکے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔ متعدد ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن رہنما اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کسی بھی جوہری معاہدے میں سخت نگرانی اور کنٹرول کی شرائط شامل ہونی چاہئیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ دی تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ طویل المدتی، 30 سالہ جوہری معاہدے کی حتمی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت امریکی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے منصوبوں سے فائدہ پہنچنے اور سعودی عرب کے یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنے کے مزید قریب آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ