17 جولائی، 2026، 1:00 PM

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو عالمی توانائی کا بحران پیدا ہوگا، آئی ای اے

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو عالمی توانائی کا بحران پیدا ہوگا، آئی ای اے

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں اضافہ نہ ہوا تو دنیا کو توانائی کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول پر نہ آئی تو عالمی توانائی سلامتی کے بارے میں شدید تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں کونسل آن فارن ریلیشنز کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاتح بیرول نے کہا کہ تیل کی فراہمی اب بھی عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم مسئلہ ہے۔ اگر صورتحال میں جلد بہتری نہ آئی تو دنیا کو توانائی کے تحفظ کے حوالے سے فکر مند ہونا پڑے گا۔

بیرول نے کہا کہ اگرچہ توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم چین کے بڑے تیل ذخائر، برقی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے استعمال کے باعث تیل کی بچت، اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی جانب سے تقریباً 40 کروڑ بیرل تیل کے مربوط اجرا جیسے عوامل نے اس کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والا بحران توانائی کی فراہمی میں تاریخ کی بدترین رکاوٹ ثابت ہوا ہے، تاہم یہ عارضی اقدامات ہمیشہ مؤثر نہیں رہ سکتے۔

فاتح بیرول نے مزید کہا کہ اگرچہ امریکہ نے خام تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے، لیکن وہ روزانہ ایک کروڑ بیرل اضافی پیداوار کے ذریعے عالمی قلت کو پورا نہیں کر سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ تیل اور گیس کی فراہمی کے بحران نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے، تاہم ایشیائی ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ان کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے پورا ہوتا ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ ساتھ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک پر اس بحران کے اثرات زیادہ شدید ہیں۔

بیرول نے خبردار کیا کہ مہنگے ایندھن کے باعث ترقی پذیر ممالک میں بہت سے لوگ متبادل ایندھن، جیسے لکڑی اور حیوانی فضلے، کے استعمال پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے صحت، خصوصاً خواتین کی صحت، کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

News ID 1940337

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha