مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے قائم مقام وزیر دفاع جنرل ابن الرضا نے کہا ہے کہ حالیہ جنگوں کے بعد ملک کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مسلح افواج رہبر معظم انقلاب کے احکامات کی روشنی میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دفاعی طاقت کو مسلسل مضبوط بنا رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزارت دفاع اور مسلح افواج کی معاونت کی وزارت کا قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ پانچ گھنٹے طویل مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارت دفاع کے اعلی حکام اور متعلقہ اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔
جنرل ابن الرضا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت نے 12 روزہ جنگ اور جنگ رمضان کے دوران جدید ترین انٹیلی جنس، عسکری اور نفسیاتی جنگی صلاحیتوں کا استعمال کیا۔ وزارت دفاع کی تحقیقات کے مطابق دنیا کی 150 سے زائد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکہ اور صہیونی حکومت کی مدد کرتے ہوئے اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی دشمن کے اختیار میں دی۔
انہوں نے کہا کہ دشمن اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو ختم کرنے کے ارادے سے میدان میں آیا تھا، لیکن شہداء کی قربانیوں، رہبر معظم انقلاب کی قیادت، مسلح افواج کی بہادری اور عوام کی بھرپور حمایت کے باعث اس کا منصوبہ ناکام ہوگیا اور ایران کامیابی کے ساتھ اس آزمائش سے گزر گیا۔
قائم مقام وزیر دفاع نے کہا کہ جنگ رمضان میں مسلح افواج کی کارکردگی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ موثر رہی۔ اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی شہادت کے باوجود افواج نے نہ صرف اپنی یکجہتی برقرار رکھی بلکہ تیزی سے نئی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے دشمن کو متعدد غیر متوقع اقدامات سے حیران کردیا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ نے دفاعی ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار مزید تیز کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ جہاں بھی جدید ٹیکنالوجی اور علم پر سرمایہ کاری کی گئی، وہاں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی، اس لیے دفاعی بجٹ میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کی ترقی اور ملکی و بیرون ملک ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ ناگزیر ہے۔
جنرل ابن الرضا نے بتایا کہ پیشگی منصوبہ بندی کی بدولت جنگ کے دوران ایک دن کے لیے بھی میزائل اور ڈرون کی پیداوار بند نہیں ہوئی بلکہ ڈرون کی پیداواری صلاحیت جنگ کے دوران تین گنا تک بڑھا دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے بعد دفاعی معلوماتی نظام کو بھی جدید بنایا گیا ہے اور اب دشمن کے کمزور مقامات کا درست اندازہ موجود ہے، جس کی بنیاد پر مسلح افواج ضرورت پڑنے پر موثر اور فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی صنعت کی بعض صلاحیتوں کو ملک کی دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا، جس سے مختلف شعبوں کی معاونت ممکن ہوئی۔
جنرل ابن الرضا نے کہا کہ جنگ کے دوران عوام کی بھرپور حمایت اور شہید کمانڈروں کی تشییع میں بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت کا ایک نیا محاذ تشکیل پا چکا ہے، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کو تنہا کرنے کی امریکی کوششیں بھی ناکام ثابت ہوئیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ مسلح افواج دشمن کی کمزوریوں اور اپنی صلاحیتوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور رہبر معظم انقلاب کی ہدایات کے تحت ملک کی دفاعی طاقت کو مسلسل مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ