30 جون، 2026، 12:57 PM

ایران اور برکس کے پانچ رکن ممالک کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی میں مشترکہ تحقیق کا آغاز

ایران اور برکس کے پانچ رکن ممالک کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی میں مشترکہ تحقیق کا آغاز

ایرانی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے برکس کے پانچ رکن ممالک کے تعاون سے سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لیے نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (INSF) نے ایرانی سائنس دانوں کو برکس کے پانچ رکن ممالک کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے تین اہم شعبوں میں مشترکہ تحقیق اور ترقی کے منصوبوں میں تعاون کا موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے سربراہ محمدرضا هرمزی نژاد نے کہا کہ یہ اقدام برکس کے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (STI) فریم ورک کے تحت بین الاقوامی فلیگ شپ منصوبوں کی کال میں شرکت کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جس سے ایرانی محققین اور برکس کے رکن ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد تین اسٹریٹجک شعبوں میں تحقیق و ترقی کے منصوبوں کی حمایت کرنا ہے، جن میں ڈیجیٹل ارتھ (Digital Earth)، سائیکو مالیکیولر ٹولز (Psycho-molecular Tools) اور برکس انٹیلی جنٹ ٹیلی اسکوپ اینڈ ڈیٹا نیٹ ورک (BRICS Intelligent Telescope and Data Network) شامل ہیں۔

ان کے مطابق یہ جامع اور ہدف پر مبنی پروگرام مشترکہ عالمی چیلنجز کے پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ منتخب منصوبے سائنس، ٹیکنالوجی اور معاشرتی ترقی میں بنیادی اور مؤثر تبدیلیوں کا باعث بن سکیں۔

محمدرضا ہرمزی نژاد نے کہا کہ پیش کیے جانے والے تحقیقی منصوبوں سے برکس ممالک کے درمیان سائنسی ہم آہنگی، مشترکہ تحقیقی ڈھانچے کی ترقی اور ایسے سائنسی و تکنیکی اہداف کے حصول کی راہ ہموار ہونی چاہیے جو تمام رکن ممالک کے مشترکہ مفادات کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے متعدد ممتاز سائنس دان پہلے ہی برکس ممالک کے ساتھ مختلف تحقیقی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور یہ نئی کال ان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا بہترین موقع ہے۔

News ID 1940071

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha