مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امن معاہدے کے تحت ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے قطر کے ذریعے واپس کیے جائیں گے، جبکہ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے حالیہ جنگ بندی کو ایرانی عوام کی عظیم کامیابی قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق، قم کے دورے کے دوران آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی سے ملاقات میں صدر پزشکیان نے بتایا کہ قطر میں ایران کے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے اثاثے موجود ہیں، جن میں سے ابتدائی مرحلے میں 6 ارب ڈالر جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ باقی رقم کی واپسی کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ ان کے مطابق منجمد اثاثوں کی رہائی اور پابندیوں کا خاتمہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے فریم ورک کا حصہ ہے۔
صدر پزشکیان نے جنگ کے دوران ایرانی عوام کے استقامت بھرے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ رہبر، وزرا، فوجی کمانڈروں، ممتاز شخصیات اور حتیٰ کہ اسکول کے بچوں کی شہادت کے باوجود قوم، مسلح افواج اور حکومت نے متحد ہو کر ملک کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں اور یہ سمجھا کہ معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن عوام کی ثابت قدمی اور خدا کی نصرت نے ان کے تمام منصوبے ناکام بنا دیے۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کا خواہاں نہیں ہے اور یہ وہی مؤقف ہے جسے شہید رہبر نے ہمیشہ بیان کیا تھا اور جو آج بھی برقرار ہے۔ ایران عالمی برادری کو یقین دلاتا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں ملک کی ضروریات اور اعلان شدہ پالیسیوں کے مطابق جاری رہیں گی۔
صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ بالآخر امریکہ نے اسرائیل کو معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا، تاہم اسرائیل اب بھی اس معاہدے پر عمل درآمد کا مخالف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے اور عوامی ریلیف کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں غذائی سبسڈی کے لیے مختص کریڈٹ میں اضافہ بھی شامل ہے۔
آپ کا تبصرہ