مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: شیعہ متون اور دعاؤں میں زیارت عاشورا ایک منفرد اور گہرا مقام رکھتی ہے۔ یہ زیارت نہ صرف تاریخ اسلام کے عظیم ترین حماسے کی یاد تازہ کرتی ہے بلکہ معرفت، اخلاق اور بندگی کا ایک مکمل مکتب بھی ہے۔ اس زیارت میں زائر واقعۂ کربلا کو یاد کرتے ہوئے ایک گہرے غم سے گزرتا ہے اور ایمان کی حقیقت کے ایک بلند ادراک تک پہنچتا ہے۔
زیارت عاشورا کا ایک نہایت معنی خیز حصہ اس کا اختتامی سجدہ ہے، جہاں زائر کو سجدہ اور حمد کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان شدید غم اور سوگ کی حالت میں بھی شکر کے کلمات ادا کرتا ہے اور کہتا ہے: اَللّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشّاکِرینَ لَکَ عَلی مُصابِهِمْ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلی عَظیمِ رَزِیَّتی، اَللّهُمَّ ارْزُقْنی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ وَ ثَبِّتْ لی قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَ اَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذینَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلام
حمد اور مصیبت کا یہ حیرت انگیز امتزاج رنج، صبر اور شکر کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک نئی راہ کھولتا ہے اور انسان کو حکمتِ الٰہی میں گہری فکر و تدبر کی دعوت دیتا ہے۔
زیارت عاشورا اور سجدہ شکر کا مطلب
زیارتِ عاشورا کے اختتام پر کیا جانے والا سجدہ صرف ایک معمول کی عبادت نہیں بلکہ ارادۂ الٰہی کے سامنے کامل فروتنی اور تسلیم و رضا کی علامت ہے۔ زائر جب اپنی پیشانی خاک پر رکھتا ہے تو گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ کربلا جیسے عظیم اور دردناک سانحے کے باوجود وہ خدا کی حکمت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہے۔
یہ سجدہ روزِ عاشورا کی بندگی کے عروج کی یاد دلاتا ہے، جب امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھی شدید ترین مصائب اور مشکلات کے باوجود یادِ خدا سے غافل نہ ہوئے اور خون اور تلوار کے درمیان بھی بندگیِ خدا کا عظیم نمونہ پیش کیا۔ اسی تناظر میں حمد الشاکرین کا مفہوم محض ایک جذباتی کیفیت سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ زائر کا دل کربلا کے غم سے لبریز ہوتا ہے، مگر وہ پھر بھی خدا کی حمد و ثنا کرتا ہے۔ البتہ اس حمد کا مطلب مصیبت پر خوشی منانا نہیں ہے، بلکہ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ یہ دردناک واقعہ بھی حکمتِ الٰہی کے نظام میں بے مقصد اور بے معنی نہیں تھا۔
امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کی مظلومانہ شہادت بظاہر ایک عظیم سانحہ اور گہری مصیبت تھی، لیکن اس کے باطنی اور تاریخی اثرات دین کی احیاء، سوئی ہوئی انسانی ضمیروں کی بیداری اور حق کی دائمی فتح کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ اسی لیے زائر اس حمد کے ذریعے خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے اسے حق کی معرفت، امام حسینؑ کی ولایت اور اہلِ بیتؑ کے مکتب کی پیروی کی توفیق عطا فرمائی۔
صبر اور شکر میں بنیادی فرق
مصیبت پر شکر کے مفہوم کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صبر کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ اخلاقی اور دینی تعلیمات میں صبر سے مراد مشکلات کے سامنے ثابت قدمی، نفس پر قابو رکھنا اور تقدیر الٰہی پر شکوہ و فریاد سے گریز کرنا ہے۔ صابر انسان آزمائشوں کے دوران روحانی شکست سے خود کو محفوظ رکھتا ہے اور ایمان و ذمہ داری کے راستے کو ترک نہیں کرتا۔
تاہم مصیبت میں شکر کا مقام صبر سے بلند تر سمجھا جاتا ہے۔ صبر جہاں برداشت اور استقامت کا نام ہے، وہاں شکر حادثات اور آزمائشوں کو ایک زیادہ گہری، متحرک اور معرفت آمیز نگاہ سے دیکھتا ہے۔ شاکر انسان دکھ اور تکلیف کے درمیان بھی حکمت الٰہی کی تلاش کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ ہر آزمائش انسان کی تربیت، باطنی پاکیزگی اور خدا سے قربت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
دوسرے الفاظ میں، صبر مصیبت کے مقابلے میں ایک مؤمن کی بنیادی اور کم از کم مطلوبہ کیفیت ہے، جبکہ شکر ایک بلند تر روحانی مقام ہے جو خدا کے حکیمانہ نظام کی عمیق معرفت اور بصیرت سے جنم لیتا ہے۔
روایات کی روشنی میں مصیبت میں شکرگزاری
اسلامی روایات میں مصیبت کے وقت شکر ادا کرنے کو ایمان کے کمال کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ ایک معروف حدیث میں فرماتے ہیں کہ مؤمن کا حال قابل تعجب ہے، کیونکہ اس کے لیے ہر حالت میں خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے کوئی نعمت ملے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر کا سبب بنتا ہے، اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے خیر کا باعث بنتی ہے۔
یہ طرزِ فکر واضح کرتا ہے کہ مؤمن اپنے درست رویے کے ذریعے مشکلات اور آزمائشوں کے دل سے بھی خیر، ترقی اور روحانی بلندی کا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔
دیگر روایات میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شکرگزاری نعمتوں کے دوام اور اضافے کا سبب بنتی ہے، جبکہ ناشکری ان کے زوال کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح بعض اوقات مصیبتیں بھی صحیح رویے کے نتیجے میں ایک پوشیدہ نعمت میں تبدیل ہو جاتی ہیں، کیونکہ متعدد احادیث میں بلا کو گناہوں کے کفارے، معنوی درجات کی بلندی اور بعض اوقات بڑی آفات سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسلامی دعاؤں میں بارہا خداوندِ متعال سے یہ دعا کی جاتی ہے کہ انسان کے دین اور ایمان کو کسی مصیبت کا نشانہ نہ بنائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اور ایمان کی سلامتی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص دنیاوی مشکلات، نقصانات یا آزمائشوں سے دوچار ہو، لیکن اس کا ایمان محفوظ رہے، تو اس کے پاس اب بھی خدا کا شکر ادا کرنے کی ایک عظیم وجہ موجود ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو زیارتِ عاشورا کے سجدے میں جلوہ گر ہوتی ہے، جہاں انسان کربلا کے عظیم غم کے باوجود خدا کی حمد بجا لاتا ہے اور اس مصیبت میں پوشیدہ الٰہی حکمت، ہدایت اور بیداری پر شکر ادا کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ